تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 48
یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ﴿48﴾
- يَوْمَ يُسْحَبُوْنَجس دن وہ گھسیٹے جائیں گے
- فِي النَّارِآگ میں
- عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭاپنے چہروں کے بل (کہا جائے گا)
- ذُوْقُوْا مَسَّچکھو لپٹنا۔ چھونا۔ مس
- سَقَرَدوزخ کا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن کو یاد رکھیں جب یہ اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے ! چکھو مزا دوزخ کی لپیٹ کا !)
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم ذوتوا مس سقر) (48)
(استکبار کی سزا)۔ اس دن ان مجرمین کو جس ذلت سے سابقہ پیش آئے گا، یہ اس کی یاددہانی ہے۔ فرمایا کہ آج تو یہ بہت اکڑ اکڑ اور نتھنے پھلا پھلا کر جھٹلا رہے ہیں لیکن وہ دن آنے والا ہی ہے جب یہ دوزخ کی آگ میں مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے۔ مونہوں کے بل گھسیٹے جانا انتہائی ذلت کی تصویر ہے۔ یہ سزا انکی اس وجہ سے دی جائیگی کہ انہوں نے محض غرور کے سبب سے ایک واضح حقیقت کو جھٹلایا۔ (ذوتوا مس سقر) یہ قول زبان قال سے بھی ہوسکتا ہے اور زر بان حال سے بھی، میں دوسری صورت کو ترجیح دیتا ہوں۔ ان کا اس طرح گھسیٹا جانا خود ہی انہیں سب سے زیادہ واضح طور پر تباہ دے گا کہ ان کی یہ درگت کیوں بن رہی ہے۔