تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 49
اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ﴿49﴾
- اِنَّابیشک ہم نے
- كُلَّ شَيْءٍہر چیز کو
- خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍپیدا کیا ہم نے اس کو ایک اندازے کے ساتھ
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے ہر چیز ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(انا کل شی خلقنہ بقدر) (49)۔
(ہر کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت مقرر ہے)۔ یعنی اس عذاب اور قیامت کا آنا تو قطعی ہے۔ رہا یہ سوال کہ ان کا آنا قطعی ہے تو وہ کیوں نہیں جاتے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک خاص اندازے کے ساتھ پیدا کی ہے۔ اس نے ہر چیز کے لیے ایک اجل معین ٹھہرائی ہے جس میں وہ اس کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی غایت کو پہنچ جائے۔ قوموں کے ساتھ بھی اس کا معاملہ اسی اصول پر ہے۔ کوئی قوم سر کشی کی راہ اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو فوراً نہیں پکڑ لیتا بلکہ اس کو اتنی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی خیر و شر کی تمام صلاحیتیں اجاگر کرسکے تاکہ اس پر حجت تمام ہوجائے اور قیامت کے دن اس کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ یہی معاملہ وہ تمہارے (یعنی قریش) ساتھ بھی کرے گا۔ تمہیں اتنی مہلت دے گا جتنی مہلت اس کے قانون کے مطابق تمہیں ملنی چاہیے تاکہ تم اصلاح کرنی چاہو تو رسول کی ہدایت کے مطابق اصلاح کرلو۔ اور اگر یہ نہیں تو اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لو تاکہ جب پکڑے جائو تو تمہیں یہ شکوہ نہ رہے کہ تمہارے ساتھ جلدی کی گئی، اگر مزید مہلت ملتی تو اصلاح یافتہ بن جاتے۔ پس فلاح کی راہ یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں جو مہلت بخشی ہے اس سے فائدہ اٹھائو، عذاب کے لیے جلدی نہ مچائو۔ اس کا وقت مقرر ہے۔ جب وقت آجائے گا تو کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔