تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 16
اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿16﴾
- اِتَّخَذُوْٓاانہوں نے بنالیا
- اَيْمَانَهُمْاپنی قسمیں
- جُنَّةًڈھال
- فَصَدُّوْاپس انہوں نے روک دیا
- عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کے راستے سے
- فَلَهُمْتو ان کے لئے
- عَذَابٌعذاب
- مُّهِيْنٌذلت کا
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں تو ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ فلھم عذاب مھین) (16)۔
(جھوٹی قسموں کی آڑ میں چھپنے کی کوشش)۔ انہوں نے قسموں کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے ان کی جس غلطی پر بھی گرفت کی جائے اس کے بارے میں جھوٹی قسموں سے یہ اطمینان دہانی کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح اپنی دانست میں اپنے کو بچا لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان قسموں کی آڑ میں انہوں نے اپنے لیے جائے پناہ بنائی ہے تاکہ دین کے مطالبات سے اپنے کو بچائے رکھیں، ایمان کا اظہار کر کے اللہ کی راہ میں انہوں نے جو قدم اٹھایا تھا اس کو روک لیا اور اب آگے بڑھنے کے بجائے قسموں کے ذریعہ سے اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ اس طرح کب تک اپنا بھرم قائم رکھیں گے۔ بالآخر ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
لفظ صد قرآن میں لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ لازم معنی میں ہے یعنی اللہ کی راہ میں آگے بڑھنے سے رک گئے۔