تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 17
لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿17﴾
- لَنْ تُغْنِيَہرگز نہ بچاسکیں گے
- عَنْهُمْان سے ، کو
- اَمْوَالُهُمْان کے مال
- وَلَآاور نہ
- اَوْلَادُهُمْان کی اولاد
- مِّنَ اللّٰهِاللہ سے
- شَيْئًا ۭکچھ، ذرا
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- اَصْحٰبُ النَّارِ ۭدوزخ والے، جہنمی
- هُمْوہ
- فِيْهَااس میں
- خٰلِدُوْنَہمیشہ رہیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کے مال اور ان کی اولاد ان کو اللہ کے عذاب سے ذرا بھی بچانے والے نہیں بنیں گے۔ یہ لوگ دوزخ والے ہیں یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(لن تغنی عنھم امرالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا اولیک اصحب النار ھم فیھا خلدون) (17)۔ یہ ان بیڑیوں کی طرف اشارہ ہے جو ان کے پائوں میں پڑی ہوئی ہیں اور جو اللہ کی راہ میں ان کو آگے نہیں بڑھنے دے رہی ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اموال و املاک اور بیوی بچوں کی محبت میں گرفتار ہیں اس وجہ سے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ ان کے مال اور ان کی اولاد خدا کے عذاب سے ان کو ذرا بھی بچانے والے نہیں ہیں۔ (من اللہ) میں مضاف مخذوف ہے یعنی (من عذاب اللہ)۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اسی طرح مال و اولاد کی محبت میں گرفتار رہے تو یہ چیز ان کو جہنم میں لے جائے گی اور پھر یہ اس سے کبھی نہیں چھوٹیں گے۔