Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 18

  1. یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ﴿18﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُانہیں اٹھائے گا اللہ
    3. جَمِيْعًاسب
    4. فَيَحْلِفُوْنَتو وہ قسمیں کھائینگے
    5. لَهٗاس کے لئے
    6. كَمَاجیسے
    7. يَحْلِفُوْنَوہ قسمیں کھاتے ہیں
    8. لَكُمْتمہارے لئے، سامنے
    9. وَيَحْسَبُوْنَاور وہ گمان کرتے ہیں
    10. اَنَّهُمْکہ وہ
    11. عَلٰي شَيْءٍ ۭکسی شے پر
    12. اَلَآیاد رکھو
    13. اِنَّهُمْبیشک وہ
    14. هُمُوہی
    15. الْكٰذِبُوْنَجھوٹے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس سے بھی اسی طرح قسم کھائیں گے جس طرح تم سے کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ ایک بنیاد پر ہیں۔ آگاہ ہو کہ یہ لوگ بالکل ہی جھوٹے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(یوم یبعثھم اللہ جمعیاً فیحلفون لہ کما یحلفون لکم یحسبلون انھم علی شی الا انھم ھم الکذبون) (18) اگر یہ اسی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنسے ہوئے دین کے تقاضوں سے بھاگتے رہے تو اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ ان کو اور ان کی اولاد کو اٹھائے گا اور اس دن بھی ان کے پاس اس جھوٹی قسم کے سوا کوئی اور سہارا نہیں ہوگا جس کا سہارا انہوں نے آج لے رکھا ہے۔ اس دن وہ اپنے رب کے سامنے اپنی بریت میں اسی طرح جھوٹی قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھا رہے ہیں۔ سورة انعام کی آیت 23 میں مشرکین کے بارے میں مشرکین کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ جب عذاب دیکھیں گے تو قسم کھا کر اپنی بےگناہی کا اظہار کریں گے کہ (واللہ ربنا ما کنا مشرکین) (اللہ ہمارے خداوند کی قسم، ہم شریک ٹھہرانے والوں میں نہیں تھے)۔ (ویحسبون انھم علی شی) یعنی جھوٹی قسم کھا کر سمجھیں گے کہ اپنی بےگناہی کے ثبوت میں ایک بہت بڑی دلیل انہوں نے پیش کردی اور کریں گے کہ جس طرح اس دنیا میں انہوں نے جھوٹی قسموں سے بہتوں کو فریب دے رکھا ہے اسی طرح آخرت میں بھی ان کا فریب چل جائے گا لیکن وہاں ان کا یہ فریب کچھ کام نہ دے گا۔ اس دن اللہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پائوں اور ان کے دوسرے اعضاء وجوارح ان کے جرائم کی خود گواہی دیں گے جس کے بعد کسی کے لیے کسی معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ ؎(الاانھم ھم الکذبون)۔ فرمایا کہ سب کان کھول کر اچھی طرح سن لیں کہ اگر کسی نے غلط فہمی سے ان کو سچا گمان کر رکھا ہے تو وہ اس گمان کو اپنے ذہن سے نکال دے۔ اصل جھوٹے یہی ہیں جنہوں نے یہاں بھی لوگوں کو اپنے جھوٹ سے مغالطہ دے رکھا ہے اور آخرت میں اپنے رب کو بھی دھوکا دینے کی جسارت کریں گے۔