تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 4
فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿4﴾
- فَمَنْ لَّمْ يَجِدْتو جو کوئی نہ پائے
- فَصِيَامُتو روزے
- شَهْرَيْنِدو مہینے
- مُتَتَابِعَيْنِلگاتار
- مِنْ قَبْلِاس سے قبل
- اَنْ يَّتَمَآسَّا ۚکہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں
- فَمَنْپھر، جس
- لَّمْ يَسْتَطِعْاسے مقدور نہ ہو
- فَاِطْعَامُتو کھانا کھلائے
- سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا ۭساٹھ مساکین کو
- ذٰلِكَیہ
- لِتُؤْمِنُوْا باللّٰهِاس لئے کہ تم ایمان رکھو اللہ پر
- وَرَسُوْلِهٖ ۭاور اس کے رسول
- وَتِلْكَاور یہ
- حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭاللہ کی حدیں
- وَلِلْكٰفِرِيْنَاور نہ ماننے والوں کے لئے
- عَذَابٌ اَلِيْمٌعذاب دردناک
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جس کو غلام میسر نہ آئے تو اس کے اوپر لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں، ہاتھ لگانے سے پہلے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اس کے ذمہ یہ اس لیے کہ اللہ اور اس کے رسول پر تمہارا ایمان راسخ ہو۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(فمن لم یجد فصیام شھرین متتابعین من قبل ان یتما شا فمن لم یسطع فا طعام ستین مسکینا ذلک لتومنوا باللہ ورسلہ وتلک حدود اللہ وللکفرین عذاب الیم) (4)۔ یعنی غلام میسر نہ آئے تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے اور اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس زمانے میں عملاً یہی دو شکلیں باقی رہیں گی اس لیے کہ غلام ختم ہوچکی ہے اور یہ بات عین متشائے اسلام کے مطابق ہوئی ہے۔ لفظ متتا بعین سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر دو ماہ کے روزے تمام ہونے سے پہلے پہلے اختلاط کرلیا تو از سر نو پورے روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہاں اگرچہ (اطعام ستین مسکینا) کے ساتھ (من قبل ان یتما سا) کی قید نہیں ہے لیکن اس صورت میں بھی یہ قید مفہوم ہے۔ اس کے ذکر نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ شکل اصل نہیں بلکہ اصل کی فرع ہے تو جب اصل کے ساتھ اس کا ذکر ہے تو فرع کے ساتھ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ (ذلک لتومنوا باللہ ورسولہ) یہ ان ہدایات کا فائدہ بتاتا ہے کہ یہ اس لیے دی گئی ہیں کہ اللہ اور رسول پر تمہارا ایمان مستحکم ہو۔ (لتومنوا) یہاں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق اپنے کامل معنی میں ہے جس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ انسان اگر اپنی کسی غلطی یا کمزوری کی تلافی کے لیے کوئی مشقت اٹھاتا ہے تو اس سے اس کی غلطی کی تلافی بھی ہوتی ہے اور اصل مقصد میں اس کے قدم راسخ بھی ہوتے ہیں۔
(وتلک حدود اللہ) یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ (ذلکم توعظون بہ) کے الفاظ سے اوپر گزر چکی ہے، یعنی یہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود ہیں۔ ان کو توڑنے کی جسارت نہ کرنا ورنہ اس کا انجام نہایت برا ہوگا۔ (وللکفرین عذاب الیم) یعنی اللہ کے حدود کو توڑنے والے کافر ہیں اور ان کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہے تو بد قسمت ہوں گے وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ رکھتے ہوئے اپنے کو کافروں میں شامل کرلیں۔ ظہار سے متعلق بعض اور سوالات بھی ہیں لیکن ان کا تعلق تفسیر سے نہیں بلکہ فقہ سے ہے اس وجہ سے ہم ان سے تعرض نہیں کریں گے۔ تفصیل کے طالب فقہی جزئیات کے لیے فقہ کی کتابوں کی مراجعت کی۔