Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 5

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ﴿5﴾

    1. اِنَّ الَّذِيْنَبیشک جو لوگ
    2. يُحَآدُّوْنَوہ مخالفت کرتے ہیں
    3. اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗاللہ اور اسکے رسول
    4. كُبِتُوْاوہ ذلیل کئے جائینگے
    5. كَمَا كُبِتَجیسے ذلیل کئے گئے
    6. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    7. مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
    8. وَقَدْ اَنْزَلْنَآاور یقیناً
    9. اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۭواضح آیتیں
    10. وَلِلْكٰفِرِيْنَکافروں کے لئے
    11. عَذَابٌعذاب
    12. مُّهِيْنٌذلت کا
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں وہ ذلیل ہوں گے جس طرح ان سے پہلے ان کے ہم مشرب ذلیل ہوئے اور ہم نے نہایت واضح تنبیہات اتار دی ہیں اور کافروں کے لیے نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے آیات 5۔ 11 کا مضمون مجادلہ حسن کے بعد اب آگے ان لوگوں کا کردار بیان ہو رہا ہے جو محادہ یعنی اسلام دشمنی اور رسول دشمنی کے روگ میں مبتلا تھے۔ اگرچہ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے اندر شامل تھے لیکن یہ ساختہ پر داختہ یہود کے تھے اور مسلمانوں کے اندر ان کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ ان لوگوں کا مخصوص طریقہ کار یہ تھا کہ یہ کسی چیز کو بہانہ بنا کر اسلام اور پیغمبر ﷺ کے خلاف مسلمانوں کے اندر سرگوشیاں کرتے تاکہ ان کے عقیدے کو متزلزل اور اسلام کے مستقبل سے ان کو مایوس کریں۔ یہاں ان کی انہی ریشہ دوانیوں سے پردہ اٹھایا اور ان کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ایک ایک سرگوشی سے اچھی طرح باخبر ہے اور بہت جلد اس کا انجام ان کے آگے آجائے گا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رہنے اور مجلس نبوی ﷺ کو ان کی سرگوشیوں سے پاک رکھنے کی بعض تدبیریں بتائی گئی ہیں۔ آیت کی تلاوت فرمایئے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (ان الذین یحادون اللہ ورسلہ کبتراک ما کبت الذین من قبلھم وقد انزلنا ایت بینت وللکفرین عذاب مھین) (5)۔ (محادۃ کا مفہوم)۔ محاذۃ کے معنی مخالفت اور دشمنی کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ موادہ کا مقابل ہے۔ اسی سورة میں یہ دونوں لفظ ایک ہی آیت میں نہایت خوبی سے استعمال ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے مفہوم پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ فرمایا ہے (لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاذا اللہ ورسولہ) (22) (تم کوئی ایسی قوم نہیں پا سکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو پھر وہ ان لوگوں کو دوست بنائے جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوں)۔ (جھوٹے مدعیان اسلام کا کردار)۔ اوپر کے پیرے میں جیسا کہ واضح ہوا ان لوگوں کا کردار بیان ہوا جن کو دین کے معاملے میں کوئی مشکل پیش آتی تو وہ اس کو اللہ و رسول کے آگے ہی پیش کرتے اور اپنا شکوہ و مجادلہ اللہ و رسول ہی سے کرتے۔ اب ان کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا کردار بیان ہو رہا ہے جو مدعی تو تھے ایمان و اسلام کے لیکن ان کا رویہ اللہ و رسول کے ساتھ مخالفت کا تھا۔ اسلام کی جو بات ان کو اپنے مفاد اور اپنی خواہشوں کے خلاف محسوس ہوتی اس کے خلاف سرگوشیوں اور خفیہ پر اپیگنڈے کی مہم شروع کردیتے تاکہ مخلص مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے ان کے ایمان و اسلام کو بھی متزلزل کردیں۔ ان کی ساری ہمدردیاں جیسا کہ آگے واضح ہوگا، اسلام کے دشمنوں بالخصوص یہود کے ساتھ تھیں۔ یہ مسلمانوں کے اندر یہود کے ایجنٹ تھے اور انہی کے زیر ہدایت برابر اس کوشش میں رہتے کہ جو موقع بھی لے اس سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت زینت ؓ کے معاملے میں انہوں نے جو فتنے اٹھائے ان کی تفصیلات سورة نور اور سورة احزاب کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ظہار کا مسئلہ بھی ان مسائل میں سے تھا جس کے بارے میں وہ قرآن کی رعایت کو نکتہ چینی کا ہدف بنا سکتے تھے جس سے سادہ لوحوں کے اندر غلط فہمیاں پھیل سکتی تھیں۔ دور جاہلیت میں جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں اس کو لوگوں نے طلاق مغلظ کا درجہ دے رکھا تھا۔ یہ اشرار آسانی سے لوگوں میں یہ سرگوشی کرسکتے تھے کہ اسلام نے نعوذ باللہ اپنے پیروئوں کے لیے ماں کے ساتھ نکاح کو بھی جائز کردیا۔ یہ صورت مقتضی تھی کہ اس موقع پر ان شریروں کو اچھی طرح بےنقاب کردیا جائے تاکہ کوئی فتنہ اٹھانے کی کوشش وہ کریں تو اس کا سدباب ہو سکے۔ (رسول کے مخالفین کا انجام)۔ (کبتوا کما کبت الذین من قبلھم)۔ کبت۔ کے معنی ذلیل و خوار کر کے تباہ کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ ذلیل و خوار ہو کر ان لوگوں کی طرح تباہ ہوں گے جس طرح ان سے پہلے ان کے ہم مشرب تباہ ہوچکے ہیں۔ (وقد انزلنا ایت بینت) (اور اس دعوے کی صداقت کی نہایت واضح دلیلیں ہم قرآن میں اتار چکے ہیں) یہ اشارہ ان تاریخی حقائق کی طرف ہے جو قرآن میں نہایت تفصیل سے یہ واضح کرنے کے لیے بیان ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کرنے والے بالآخر ذلیل و خوار ہو کر تباہ ہوتے ہیں۔ (وللکفرین عذاب مھین) فرمایا کہ ان کافروں کے لیے بھی بالآخر ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ یہ اشارہ ان کافروں کی طرف ہے جو آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں سرگرم تھے۔ فرمایا کہ یہ بھی بالآخر اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جس طرح ان کے پیش روز ذلیل و خوار ہوچکے ہیں۔ جب ان کا کردار وہی ہے جو ان کا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی تاریخ ان سے مختلف ہو۔ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے۔ قرآن کی یہ دھمکی اس وقت پوری ہوگئی جب قریش کی طاقت بھی ختم ہوگئی اور یہودبھی اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ اس وقت ان منافقین کے لیے بھی کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہی جو یہود کی زیر سر سرپرستی ریشہ دوانیاں کرتے تھے۔ ان کا حشر بھی وہی ہوا جو ان کے مرشد یہود کا ہوا۔ آگے کی سورتوں میں ان کے انجام کی عبرت انگیزتفصیل آرہی ہے۔ ان کے عذاب کو ذلیل کرنے والا عذاب اس لیے کہا گیا کہ ان کو نہایت رسوا کن قتل و جلا وطنی اور غلامی کی سزائوں سے دو چار ہونا پڑا اور کسی کو بھی ان کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہوئی بلکہ سب نے ان پر لعنت ہی کی۔