Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 6

  1. یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ع﴿6﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. يَبْعَثُهُمُوہ انہیں اٹھائے گا
    3. اللّٰهُاللہ
    4. جَمِيْعًاسب
    5. فَيُنَبِّئُهُمْتو وہ انہیں آگاہ کریگا
    6. بِمَا عَمِلُوْا ۭوہ جو انہوں نے کیا
    7. اَحْصٰىهُ اللّٰهُاللہ نے اسے گن رکھا تھا
    8. وَنَسُوْهُ ۭاور وہ اسے بھول گئے
    9. وَاللّٰهُاور اللہ
    10. عَلٰي كُلِّ شَيْءٍہر شے پر
    11. شَهِيْدٌنگران
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا اور ان کو ان کے سارے اعمال سے آگاہ کرے گا۔ اللہ نے اس کو شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اس کو بھلائے بیٹھے ہیں اور اللہ ہر چیز کے پاس حاضر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(یوم یبعثھم اللہ جمیعا فینبئھم بما عملوا احصہ اللہ ونسوہ والہل علی کل شی شھید) (6)۔ (یوم) کا نصاب اگرچہ (عذاب مھین) سے بھی ہوسکتا ہے لیکن میرے نزدیک یہ معروف ضابطہ عربیت کے مطابق، فعل محذوف سے منصوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو جو پیش آئے گا آئے گا ہی، یہ لوگ اس دن کو بھی یاد رکھیں جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا اور جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا وہ سب ان کے آگے رکھ دے گا۔ (جمعیا) کی قید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے کہ آج جو سازشیں اور سرگوشیاں ہو رہی ہیں ان کے تمام ارکان و عوامل جمع کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کے سامنے اس کے سارے راز بےنقاب کر دے گا کہ کس نے کیا مشورے دیے اور کس نے کس طرح اس کی تعمیل کی۔ (فینبھم) سے مراد ظاہر ہے کہ اس کا لازم ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کے سارے کیے دھرے سے ان کو آگاہ کرے گا تاکہ وہ اس کے نتائج بھگتیں۔ (ایک مغاملہ پر تنبیہ)۔ (احصہ اللہ ونسوہ) میں ایک بہت بڑے مغالطہ سے آگاہ فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ جس طرح یہ سب کچھ کر کے بھول گئے اللہ بھی اس کو بھول گیا۔ ان لوگوں کو ان کی شرارتوں کی سزا نہیں ملی اس وجہ سے سمجھ بیٹھے کہ اللہ بھول گیا ہے لیکن اللہ نے ان کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رکھی ہے اور جزاء و سزا کے لیے ایک دن مقرر کر رکھا ہے جس دن سب کی نیکی بدی اس کے سامنے آجائے گی۔ (واللہ علی کل شی شھید) یہ اس کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہیں غائب نہیں ہوتا ہے، بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔