تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 88
ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿88﴾
- ذٰلِكَیہ
- هُدَىرہنمائی
- اللّٰهِاللہ
- يَهْدِيْہدایت دیتا ہے
- بِهٖاس سے
- مَنْ يَّشَآءُجسے چاہے
- مِنْسے
- عِبَادِهٖاپنے بندے
- وَلَوْاور اگر
- اَشْرَكُوْاوہ شرک کرتے
- لَحَبِطَتو ضائع ہوجاتے
- عَنْهُمْان سے
- مَّاجو کچھ
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اللہ کی ہدایت ہے اس سے وہ سرفراز فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھر اکارت ہو کے رہ جاتا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ہدایت وہ ہے جو انبیاء کو حاصل ہوئی : ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ ، یعنی یہی ہدایت جو ان تمام نبیوں کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو حاصل ہوئی، یہی اللہ کی ہدایت ہے، باقی اس کے سوا جتنی راہیں سب شیطان کی نکالی ہوئی ہیں۔ یہ راہ اللہ اپنے ان بندوں پر کھولتا ہے جن کے لیے چاہتا ہے۔“ جن کے لیے چاہتا ہے ”سے اشارہ اس سنت اللہ کی طرف ہے جو اس نے ایمان و ہدایت کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ اس کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ بھی جن کو اللہ نے یہ مرتبے عطا فرمائے اگر کہیں شرک میں مبتلا ہوجاتے تو ان کا سارا کیا دھرا برباد ہو کے رہ جاتا۔ مجرد اس بنیاد پر ان کی برگزیدگی قائم نہ رہتی کہ یہ نوح یا ابراہی کی اولاد ہیں۔ یہ تنبیہ اہل عرب کے لیے بھی ہے اور بنی اسرائیل کے لیے بھی کہ توحید سے منحرف ہو کر جو لوگ مجرد اس نسبت پر برگزیدگی کے خواب دیکھ رہے ہیں جو انہیں ابراہیم کی اولاد ہونے کے سبب سے حاصل ہے وہ نری حماقت میں مبتلا ہیں۔ یہ تو درکنار اگر وہ بھی شرک میں آلودہ ہوجاتے تو خدا کے ہاں ان کا بھی کوئی وزن باقی نہ رہ جاتا۔