تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 3
لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿3﴾
- لَنُْہرگز نہ
- تَنْفَعَكُمْتمہیں نفع دیں گے
- اَرْحَامُكُمْتمہارے رشتے
- وَلَآاور نہ
- اَوْلَادُكُمْ ڔتمہاری اولاد
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ڔقیامت کے دن
- يَفْصِلُوہ (اللہ) فیصلہ کردے گا
- بَيْنَكُمْ ۭتمہارے درمیان
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَا تَعْمَلُوْنَجو تم کرتے ہو
- بَصِيْرٌدیکھتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تمہارے رشتے ناتے اور تمہارے آل و اولاد قیامت کے دن تمہارے کچھ بھی کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ اس دن اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(لن تفعکم ارحا مکم ولا اولاد کم یوم القیمۃ یفصلی بینکم واللہ بما تعملون بصیر) (3)۔
(قیامت میں رشتے کام نہیں آئیں گے)۔ ارحام یہاں قرابات یعنی رشتے ناتے کے مفہوم میں ہے۔ یہ تنبیہ ہے کہ جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابل میں اپنے رشتوں باتوں کو زیادہ اہمیت دیں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن اللہ تعالیٰ اس طرح کے تمام رشتہ داروں کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اس دن کی تصویر یوں کھینچی گئی ہے۔
(وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّبَصَّرُوْنَھُمْط یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ۔ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ۔) المعارج : 7، 10، 14) (اور اس دن کوئی دوست کسی دوست کا پر سال حال نہیں ہوگا وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم کی تمنا یہ ہوگی کاش ! اس دن کے عذاب سے وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس خاندان کو جو اس کی پناہ گاہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے۔
یہی حقیقت سورة عبس میں یوں واضح فرمائی گئی ہے۔
(یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ۔ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ۔) (عبس : 34، 36) (اس دن کو یاد رکھو جس دن آدمی اپنے بھائی، اپنے ماں باپ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا)۔
اسی قسم کے مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہی تنبیہ سورة توبہ میں یوں فرمائی گئی ہے۔
(یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَآئَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہ ُ بِاَمْرِہٖط وَ اللہ ُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔) (التوبۃ : 9 : 23 : 24)۔
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست نہ بنائو اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں اور جو تم میں سے ان کو دوست بنائیں گے تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ کہہ دو ، اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان، تمہارا وہ مال جو تم نے کمایا، وہ کاروبار جس کی کساد بازاری کا تمہیں اندیشہ ہے اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں۔ تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے اور اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔)
آیت زیر بحث میں (یوم القیمۃ) اس خوبصورتی سے بیچ میں آیا ہے کہ وہ آگے اور پیچھے آنے والے دونوں فعلوں کا ظرف بن گیا ہے۔ (واللہ بما تعملون بصیر) یہ ایک دوسری تنبیہ ہے کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ جو کچھ تم چھپا کر کرنے کی کوشش کر رہے ہو یہ اللہ سے بھی چھپا رہے گا۔ اللہ سے کوئی چیز بھی چھپی نہیں رہتی۔ تمہارا ہر عمل اس کی نگاہوں میں ہے۔