تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 4
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ﴿4﴾
- قَدْ كَانَتْبیشک ہے
- لَكُمْتمہارے لئے
- اُسْوَةٌچال (نمونہ)
- حَسَنَةٌبہترین
- فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَابراہیم میں
- وَالَّذِيْنَاور جو
- مَعَهٗ ۚاس کے ساتھ
- اِذْ قَالُوْاجب انہوں نے کہا
- لِقَوْمِهِمْاپنی قوم کو
- اِنَّا بُرَءٰٓؤُابیشک ہم لاتعلق
- مِنْكُمْتم سے
- وَمِمَّااور ان سے جن کی
- تَعْبُدُوْنَتم بندگی کرتے ہو
- مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۡاللہ کے سوا
- كَفَرْنَاہم منکر ہوں
- بِكُمْتمہارے
- وَبَدَااور ظاہر ہوگئی
- بَيْنَنَاہمارے درمیان
- وَبَيْنَكُمُاور تمہارے درمیان
- الْعَدَاوَةُعداوت
- وَالْبَغْضَآءُاور بغض (دشمنی)
- اَبَدًاہمیشہ کیلئے
- حَتّٰىیہاں تک کہ
- تُؤْمِنُوْاتم ایمان لے آؤ
- بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓاللہ پر واحد
- اِلَّا قَوْلَمگر کہنا
- اِبْرٰهِيْمَابراہیم
- لِاَبِيْهِاپنے باپ سے
- لَاَسْتَغْفِرَنَّالبتہ میں ضرور مغفرت مانگوں گا
- لَكَتمہارے لئے
- وَمَآاور نہیں
- اَمْلِكُمیں اختیار رکھتا
- لَكَتمہارے لئے
- مِنَ اللّٰهِاللہ سے، آگے
- مِنْ شَيْءٍ ۭکچھ بھی
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- عَلَيْكَتجھ پر
- تَوَكَّلْنَاہم نے بھروسہ کیا
- وَاِلَيْكَاور تیری طرف
- اَنَبْنَاہم نے رجوع کیا
- وَاِلَيْكَاور تیری طرف
- الْمَصِيْرُبازگشت
Translation · Tadabbur-e-Quran
تمہارے لیے بہترین نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان سے، جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، بالکل بری ہیں۔ ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے مابین ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بیزاری آشکارا ہوگئی تآنکہ تم اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ پر ایمان لائو۔ مگر ابراہیم کی اپنے باپ سے اتنی بات کہ میں آپ کے لیے مغفرت مانگوں گا اگرچہ میں آپ کے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے رب، ہم نے تیرے اوپر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(قد کا نت لکم اسوۃ خسنۃ فی ابراھیم والذین معہ اذقالوا لقومھم انا برئو مثکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابداء حتی تومنوا باللہ وحدہٗ الا قول ابراہیم لا بیہ لا ستغفرن لک وما املک لک من اللہ من شی ربنا علیکم توکلنا والیک انبنا والیک المصیر) (4)۔
(اسوہ ابراہیم کی پیروی کی تلقین)۔ فرمایا کہ اس معاملے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے جدامجد حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین قابل تقلید نمونہ پہلے سے موجود ہے۔ (قد کا نت) کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ پہلے سے تمہارے سامنے ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ اہل عرب کو اس بات پر ناز تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد ہیں۔ انہیں ان کی ہجرت اور قربانی کی روایات کا بھی علم تھا۔ اگرچہ امتداد زمانہ سے ان پر گردو غبار کی تہیں بھی جم گئی تھیں اور بدعات نے ان کے بعض پہلوئوں کو مسخ بھی کردیا تھا تاہم یہ بات نہیں تھی کہ وہ ان سے بالکل ہی نا آشنا ہوں، جیسا کہ بعض مورخین نے گمان کیا ہے۔ (والذین معہ) سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جب ہجرت فرمائی ہے تو تنہا نہیں ہجرت فرمائی ہے بلکہ ان کی قوم کے کچھ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے، اس ہجرت میں ان کے ہم رکاب تھے۔
(حضرت ابراہیم ؑ کا اعلان برأت)۔ (اذا قالو لقومھر) الایۃ۔۔۔ یہ اس اعلان برأت کا حوالہ ہے جو حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم کے سامنے کیا۔ انہوں نے ڈنکے کی چوٹ ان کو سنایا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو، بالکل بری ہوئے۔ تمہارے مسلک و مذہب کا ہم نے انکار کیا وہ اس اعلان برأت کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت اس وقت تک کے لیے آشکارا ہوگئی جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لائو۔
(وبدا بیننا و بینکم العدواۃ) یعنی اب تک تو ہم نے تمہارے ساتھ اس لیے رعایت برتی کہ تمہیں دین کی دعوت پہنچا دیں لیکن اب جب کہ تم پر حجت قائم ہوچکی ہے اور تم اپنی ضلالت پر اڑے ہوئے ہو، ہم تم سے اعلان برأت کر کے الگ ہو رہے ہیں۔ اب تمہارے ساتھ ہمارا تعلق کھلم کھلا عداوت ہی کا رہے گا الا آنکہ تم اپنے شرک سے ثاثت ہو کہ توحید کی دعوت قبول کرلو۔ (الا قول ابراہیم لابیہ) عام طور پر ہمارے مفسرین نے سمجھا ہے کہ یہ اسوہ حسنہ سے استثناء ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ اعلان برأت سے استثناء ہے۔ یعنی اس کھلم کھلا اعلان برأت میں اگر حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے ساتھ کوئی رعایت برتی تو صرف یہ کہ اپنے باپ سے انہوں نے یہ وعدہ کرلیا کہ میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا اگرچہ میں خدا کی طرف سے آپ کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یعنی ہوگا تو وہی جو اللہ تعالیٰ چاہے گا تاہم میں دعا کروں گا۔
اس رعایت کی وجہ، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، یہ تھی کہ وہ نہایت درد مند اور بردبار تھے، انہوں نے خیال فرمایا کہ اگر وہ اپے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو یہ چیز اس اعلان برأت کے منافی نہیں ہوگی جو وہ اپنی پوری قوم سے کر رہے ہیں بلکہ یہ اس برو احسان کا مقتضی ہے جو ہر بیٹے پر اس کے والدین کا ایک واجبی حق ہے۔ اس وقت تک ان کو یہ اندازہ بھی پورا پورا نہیں تھا کہ دین کے ساتھ باپ کی دشمنی کس درجے کی ہے۔ انہوں نے خیال فرمایا کہ باپ کا سارا غصہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے زعم کے مطابق اپنے بیٹے کو ایک گمراہی سے بچانا چاہتا ہے لیکن جب ان پر یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ ان کا باپ اللہ کے دین کا کٹر دشمن ہے تو انہوں نے اس سہ کلیۃً اعلان برأت کردیا۔
(وما املک لک من اللہ من شئی) شیء یہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے وعدہ مغفرت کے ساتھ ہی توحید کی اصل حقیقت بھی واضح فرما دی کہ مجھے جو اختیار حاصل ہے صرف اتنا ہی ہے کہ میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں۔ رہا تمہارا بخشا جانا یا نہ بخشا جاتا تو یہ کلیۃً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس معاملے میں مجھے کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ کسی کے لیے استغفار اس کے حق میں ایک قسم کی سفارش ہے۔ اس سفارش کے معاملے میں جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ جیسے جلیل القدر پیغمبر اپنی اس بےاختیاری کا اظہار فرماتے ہیں تو تابہ دیگراں چہ رسد۔
(مرحلہ ہجرت کی دعا)۔ (ربنا علیکم توکلنا والیک انبنا والیک المصیر) اس دعا کا تعلق اعلان برأت سے ہے۔ بیچ میں (الا قول ابراہیم) کا ٹکڑا جملہ معترصہ کے طور پر آگیا تھا۔ اس کے ختم ہوتے ہی وہ دعا نقل ہوئی ہے جو اس نازک موقع پر حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ دوسرے مقامات میں ہم اس حقیقت کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اعلان برأت کے بعد لازماً پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کے لیے ہجرت کا مرحلہ آجاتا ہے۔ یہ مرحلہ نہایت کٹھن ہوتام ہے۔ اپنی پوری قوم سے ابدی دشمنی اور بیزاری کا اعلان کر کے الگ ہوجانا کوئی سہل بازی نہیں ہے اس وجہ سے ہر رسول نے اپنی ہجرت کے وقت اپنا اور اپنے ساتھیوں کا معاملہ اپنے رب کے حوالے کیا ہے۔ ہجرت کے وقت اسی طرح کی دعا حضرت موسیٰ ؑ نے بھی فرمائی اور اسی طرح کی دعا ہمارے نبی کریم ﷺ سے بھی منقول ہے یہ دعا اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ بندے کا نیک سے نیک ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے انجام پاتا ہے اس وجہ سے ہر قدم اسی کی مدد کے بھروسے پر اٹھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں وہی سرخ رو ہوتے ہیں جن کے دل ہر وقت اس کی طرف جھکے رہتے ہیں اور جن کے اندر یہ یقین راسخ ہوتا ہے کہ بالآخر ان کو ایک دن اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔