تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 5
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿5﴾
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- لَا تَجْعَلْنَاہمیں نہ بنا
- فِتْنَةًآزمائش (تختۂ مشق)
- لِّلَّذِيْنَان کیلئے جنہوں نے
- كَفَرُوْاکفر کیا، کافر
- وَاغْفِرْاور بخش دے
- لَنَاہمیں
- رَبَّنَا ۚاے ہمارے رب
- اِنَّكَبیشک تو
- اَنْتَتو ہی
- الْعَزِيْزُغالب
- الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے ہمارے رب، ہم کو ان لوگوں کا تختہ مشق نہ بننے دینا جنہوں نے کفر کیا ہے اور اے ہمارے رب ہم کو بخش، بیشک تو عزیز و حکیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا واغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم) (5)
یہ بھی اسی دعا کا حصہ ہے جو اوپرمذکور ہوئی۔ فتنۃ یہاں ہدف فتنہ کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کفار کی وہ اذیتیں ہیں جو مسلمانوں کو وہ پہنچا سکتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو تیری توحید کی غیرت و حمیت میں ان مشرکوں سے اعلان برأت و عداوت کردیا۔ اب ان کی طرف سے جو کچھ پیش آئے ہم اس کے لیے سینہ سپر ہیں۔ لیکن ہمارا بھروسہ تیری مدد پر ہے۔ ان کو اتنی ڈھیل نہ دینا کہ وہ ہم کو اپنے مظالم کا تختہ شق بنا لیں۔ (واغفرلنا ربنا) اے ہمارے رب ہماری کمزوریوں اور ہمارے گناہوں کو بخش، ہمارے گناہ اس بات کا سبب نہ بن جائیں کہ ہمارے دشمن ہمیں کمزور پا کر اپنی ستم رانیوں کا ہدف بنا لیں۔ اس فقرے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی آزمائش پیش آئی تو وہ ہمارے اپنے ہی اعمال کی پاداش میں پیش آئے گی اور تیرے اختیار میں سب کچھ ہے تو ہمارے گناہوں کو بخش دے تو ہم ان کے وبال سے بچ جائیں گے۔
(انک انت العزیز الحکیم) یہ کامل تفویض کا کلمہ ہے تو ہر چیز پر غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ کوئی تیرا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ ساتھ ہی تو حکیم بھی ہے۔ تیرا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے ہم اپنا معاملہ کلیۃً تیرے حوالے کرتے ہیں۔ تو جو کرے گا اسی میں خیر اور اسی میں حکمت و مصلحت ہے۔