Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 62. Al-Jumu'a · Ayah 11

  1. وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ع﴿11﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. رَاَوْاانہوں نے دیکھا
    3. تِجَارَةًتجارت کو
    4. اَوْ لَهْوَۨایا کھیل تماشے کو
    5. انْفَضُّوْٓا اِلَيْهَامائل ہوگئے اس کی طرف
    6. وَتَرَكُوْكَاور انہوں نے چھوڑ دیا آپ کو
    7. قَآئِمًاکھڑے۔ کھڑی حالت میں
    8. قُلْکہہ دیجئے
    9. مَا عِنْدَ اللّٰهِجو اللہ کے پاس ہے
    10. خَيْرٌبہتر ہے
    11. مِّنَ اللَّهْوِکھیل تماشے سے
    12. وَمِنَاور ، سے
    13. التِّجَارَةِتجارت (سے)
    14. وَاللّٰهُاور اللہ
    15. خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَبہترین رزق دینے والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ کوئی تجارت یا دلچسپی کی چیز دیکھ پاتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تم کو کھڑے چھوڑ دیتے ہیں۔ کہہ دو ، جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے اور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(واذا ارادتجارۃ اولھو انفضوا الیھا و تر کرک قائما قل ما عند اللہ خیر من اللھو ومن التجارۃ واللہ خیر الرزقین) (11)۔ (واقعہ جو اس کا تنبیہ کا سبب ہوا)۔ یہ آخر میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو مذکورہ بالا تنبیہات وتعلیمات کے نزول کا سبب ہوا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کا کوئی تجارتی قافلہ، عین خطبہ جمعہ کے وقت، مدینہ میں داخل ہوا۔ اس نے اعلان و اشتہار کے لیے، رواج کے مطابق، اپنے ڈھول اور دف جو بجائے تو کچھ لوگ پیغمبر ﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ کر اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح کے قافلے اس زمانے میں بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ ضروری چیزوں کی خریدو فروخت انہی کے ذریعہ سے ہوتی اس وجہ سے لوگوں کو ان کا انتظار رہتا اور جب وہ آتے تو ہر شخص اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرنے اور اپنا مال فروخت کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کرتا۔ یہ فعل جن لوگوں سے صادر ہوا ظاہر ہے کہ ان پر اسلامی تربیت کا رنگ ابھی اچھی طرح چڑھا نہیں تھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خطبہ جمعہ کی اہمیت سے بھی اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ ان کے نزدیک اہمیت صرف نماز ہی کی تھی۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ نماز سے پہلے پہلے قافلہ کو دیکھ کر واپس آجائیں گے۔ بہرحال ان سے جو غلطی ہوئی اس سے امت کو یہ فائدہ پہنچا کہ جمعہ، خطبہ جمعہ اور پیغمبر ﷺ سے متعلق ایسی ہدایات نازل ہوگئیں جو اس سے پہلے نازل نہیں ہوئی تھیں۔ آیت میں بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ یہ فعل جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صادر کچھ نا تربیت یافتہ لوگ ہی سے ہوا۔ قرآن کا عام انداز موعظت یہی ہے کہ وہ تعین کے ساتھ ملامت کرنے کے بجائے عام الفاظ ہی میں تنبیہ کرتا ہے تاکہ جماعت کا ہر شخص اس سے فائدہ اٹھائے اور کسی خاص گروہ کو اس سے رسوائی کا احساس نہ ہو۔ (ترکوک قائما) سے اس واقعہ کی سنگینی کا ایک حاصل پہلو یہ واضح ہوتا ہے کہ خطبہ خود حضور نبی کریم ﷺ دے رہے تھے۔ حضور ﷺ کے خطبہ کو اس طرح چھوڑ کر چل دینے میں سوء ادب اور دین کی ناقدری کے جو پہلو مضمر ہیں وہ نہایت اہم ہیں۔ یہ بعینہٖ وہی روش ہے جو یہود نے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ اختیار کی۔ جس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کے دل، جیسا کہ سورة صف میں بیان ہوا ہے۔ کج کردینہ اس وجہ سے قرآن نے ان سے پہلے ہی مرحلہ میں گرفت فرمائی۔ (قل ما عند اللہ خیر من اللھم ومن التجارۃ واللہ خیر الرازقین) فرمایا کہ اللہ کے پاس مخلص اہل ایمان کے لیے جو اجر عظیم ہے اس کے طالب بنو۔ وہ اس دنیا کے لہو و لعب اور اس کی تجارت سے کہیں بہتر ہے۔ اگر اس دنیا کا بڑے سے بڑانقصان کر کے بھی تم نے خدا اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرلی تو اپنے خزف ریزوں کے عوض ابدی بادشاہی کے مالک بن جائو گے اور اگر خد اور سول کو ناراض کر کے تم نے ساری دنیا کی دولت بھی سمیٹ لی تو آخر کتنے دنوں کے لیے پس دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے پیچھے مت بھاگو بلکہ جو چیز اللہ کے پاس ہے اس کے طالب بنو۔ اللہ بہترین روزی دینے والا ہے۔ وہ وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا اور ایسا رزق دیتا ہے جو ہر اعتبار سے رزق کریم ہوتا ہے۔ (لعلکم تفلحون) اور (خیر الرزاقین) میں عربیت کے جو اسلوب ہیں ان کی وضاحت ان کے محل میں ہوچکی ہے۔ 4۔ جمعہ، خطبہ جمعہ اور مقام نبوت سے متعلق قرآن کے چند اشارات اگرچہ آیات کے تحت ان سے مستنبط ہونے والی اہم باتوں کی طرف ہم توجہ دلاتے آ رہے ہیں لیکن چند باتیں مزید توجہ کی مستحق ہیں۔ (رسول کی تقسیم اللہ کی تعلیم ہے)۔ ایک یہ کہ جمعہ کی نماز، اس کی اذان اور اس کے خطبہ سے متعلق یہاں مسلمانوں کو جو ہدایات دی گئی ہیں اور ان کی ایک غلطی پر جس طرح تنبیہ فرمائی گئی ہے اس کا انداز شاہد ہے کہ جمعہ کے قیام سے متعلق ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پائی ہیں، حالانکہ قرآن میں کہیں بھی جمعہ کا کوئی ذکر نہ اس سے پہلے آیا ہے نہ اس کے بعد ہے بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ اس کے قیام کا اہتمام ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر نبی ﷺ نے فرمایا اور لوگوں کو آپ ہی نے اس کے احکام و آداب کی تعلیم دی، پھر جب لوگوں سے اس کے آداب ملحوظ رکھنے میں کچھ کوتاہی ہوئی تو اس پر قرآن نے اس طرح گرفت فرمائی گویا براہ راست اللہ تعالیٰ ہی کے بتائے ہوئے احکام و ٓداب کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کے دیے ہوئے احکام بعینہٖ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں، ان کا ذکر قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ رسول کی طرف ان کی نسبت کی تحقیق تو ضروری ہے لیکن نسبت ثابت ہے تو ان کا انکار خود اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار ہے۔ گفتگو او گفتہ اللہ بود (خطبہ جمعہ نماز جمعہ کا ضروری رکن ہے)۔ دوسری یہ کہ خطبہ جمعہ، نماز جمعہ کا ایک ضروری رکن ہے۔ اس سے بےپروائی یا اس کی ناقدری کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں رہے۔ اس خطبہ کے لیے نماز جمعہ کی رکعتیں چار کی جگہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، صرف دور رکھی گئی ہیں اور دو رکعتوں کی جگہ خطبہ کو دی گئی ہے جو دو رکعتوں ہی کی طرح دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ پھر نماز کی طرح خطبہ بھی، قرآن کی تصریح کے مطابق، ذکر اللہ ہے، یعنی خطبہ اور نماز دونوں کی روح ایک ہی بتائی گئی ہے۔ بس اتنا فرق ہے کہ نماز میں امام اور مقتدی سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر ذکر الٰہی کرتے ہیں اور خطبہ میں امام لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر اللہ کی تذکیر کرتا ہے۔ اس زمانے میں یہ عجیب مصیبت ہے کہ اصل خطبہ جمعہ چند معروف دعائیہ کلمات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور ائمہ حضرات اپنا سارا زور خطابت ان لمبی لمبی تقریروں پر صرف فرماتے ہیں جو وہ اصل خطبہ سے پہلے کرتے ہیں۔ ان تقریروں میں ذکر اللہ بہت کم اور دوسری غیر ضروری باتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ سامعین یا تو اونگھتے ہیں یا سوتے ہیں اور جو سننے کی کوشش کرتے ہیں وہ طول بیان سے تھک جاتے ہیں۔ (ایک افسوسناک صورتحال)۔ بہت سے لوگ ان لمبی تقریروں سے بچنے کے لیے مسجد میں اس وقت چیختے ہیں جب وہ خطبہ شروع ہوتا ہے جو ہے تو اصلی لیکن اس زمانے میں وہ بالکل ایک رسمی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ یہ صورت حال نہایت افسوس ناک ہے۔ ضروری ہے کہ اصل خطبہ کی اہمیت بحال کی جائے۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ لمبی لمبی تقریروں کی جگہ امام صاحبان اصل خطبہ ہی میں ضروری باتوں کی تذکیر کریں۔ خطبہ جامع، مختصر اور پر حکمت ہوتا کہ لوگ دلچسپی سے سنیں اور مستفید ہوں۔ لوگوں کو تاکید کی جائے کہ خطبہ سننے کے لیے وہ ٹھیک وقت پر پہنچیں اور اس سے غفلت کے ان عواقف سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ (جمعہ کے روز مسلمان کے لیے پسندیدہ روش)۔ تیسری یہ کہ قرآن کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ مسلمان کے لیے پسندیدہ روش، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جمعہ سے پہلے کا وقت وہ جمعہ کی تیاریوں میں صرف کرے۔ کوئی اور مصروفیت بلا کسی شدید ضرورت کے وہ ایسی نہ پیدا کرے جو اس تیاری میں مانع یا مخل ہو۔ یہ بات یوں نکلتی ہے کہ فرمایا ہے کہ جب نماز ختم ہوجائے تب زمین میں پھیل جائو اور اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ ان الفاظ کے اندر یہ مضمون مضمر ہے کہ جمعہ کے دن کاروباری مصروفیت کے لیے موزوں وقت جمعہ سے پہلے کا نہیں بلکہ جمعہ کی نماز کے بعد ہی کا ہے بالخصوص اس طرح کی کاروباری مصروفیت جس کے لیے لوگوں کو بستی سے نکل کر زمین میں پھیلنے پر مجبور ہونا پڑے اور اندیشہ ہو کہ جمعہ کے لیے جو اجتماع مطلوب ہے اس انتشار سے اس کو نقصان پہنچے گا۔ ایک عام آدمی کو ہفتہ میں ایک دن ایسا ضرور ملنا چاہیے جس دن وہ حجامت بنوائے، کپڑے دھوئے، غسل کرے ان کاموں کے لیے موزوں ترین دن جمعہ ہی کا ہوسکتا ہے اس لیے کہ یہ باتیں اس کے آداب میں سے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ جمعہ کے دن دوسری معاشی و کاروباری سرگرمیاں اگر ضروری ہوں تو جمعہ کے بعد ہی شروع ہوں۔ یہی طریقہ ہمارے سلف صالحین کا رہا ہے اور یہی طریقہ آج بھی ان حلقوں میں پسندیدہ ہے جن میں اسلامی شعائر اور اسلامی تہذیب کا شعور زندہ ہے۔ جمعہ سے متعلق جو باتیں براہ راست قرآن مجید سے مستنبط ہوتی ہیں، ہم نے اپنے طریقہ کے مطابق اپنی بحث انہی تک محدود رکھی ہے۔ دوسرے مسائل جن کا تعق فقہ سے ہے۔ ہم نے ان سے تعرض نہیں کیا ہے۔ ان سطور پر اللہ تعالیٰ کی توفیق و رہنمائی سے اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ لاہور۔ 25، مارچ 1978 ء۔ 14، ربیع الثانی 1398 ھ۔