Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 62. Al-Jumu'a · Ayah 10

  1. فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿10﴾

    1. فَاِذَا قُضِيَتِپھر جب پوری ہوجائے
    2. الصَّلٰوةُنماز
    3. فَانْتَشِرُوْاتو پھیل جاؤ
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. وَابْتَغُوْااور تلاش کرو
    6. مِنْ فَضْلِفضل میں سے
    7. اللّٰهِاللہ کے
    8. وَاذْكُرُوا اللّٰهَاور ذکر کرو اللہ کا
    9. كَثِيْرًابہت
    10. لَّعَلَّكُمْتاکہ تم
    11. تُفْلِحُوْنَتم فلاح پاؤ
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر جب نماز ختم ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کے فضل کے طالب بنو اور اللہ کو زیادہ یاد رکھو تاکہ تم فلاح پائو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(فاذا فضیت الصلوٰۃ فانتشرو فی الارض واتبغوا من فضل اللہ واذکرواللہ کثیرا لعلکم تفلحون) (10)۔ (یہود کے احترام سبقت کے بالمقابل جمعہ کی پابندی آسان ہے)۔ یعنی یہ پابندی صرف اتنی ہی دیر کے لیے ہے کہ نماز سے فارغ ہو جائو ! اس کے بعد تمہیں اجازت ہے کہ تم جہاں چاہو جائو اور جس شکل میں چاہو اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اتنے قلیل وقت کی پابندی بھی تم اپنے رب کی خوشنودی کے لیے گوارا نہیں کرسکتے تو پھر تمہارا ایمان و اسلام کیا ہے ! یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہود پر سبقت کے احترام کی پابندی پورے دن کے لیے تھی۔ لیکن اس امت پر جمعہ کے احترام کی پابندی صرف اذان سے لے کر ختم نماز تک کے لیے عائد کی گئی ہے، باقی پورے دن میں اسی طرح آ زادی ہے جس طرح دوسرے دنوں میں ہے۔ (واذکرو اللہ کثیرا لعلکم تفلحون) یعنی تمہارے لیے رزق و فضل کی جدوجہد پر کوئی پابندی نہیں ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر اس جدوجہد میں دنیا ہی مطمح نظر نہیں ہے، آخرت کی فلاح بھی مطلوب ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر قدم پر اللہ کو یاد رکھو۔ یہی یاد تمہیں شیطان کے فریبوں اور فتنوں سے بچائے گی ورنہ شیطان تمہیں اس طرح اندھا بنا دے گا کہ تم حرام و حلال کے اعتبار سے عاری ہو کر اس دنیا کے کتنے بن کر رہ جائو گے اور پھر جہنم ہی کے ایندھن بنو گے۔