تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 1
اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ﴿1﴾
- اِذَا جَآءَكَجب آتے ہیں تیرے پاس
- الْمُنٰفِقُوْنَمنافق
- قَالُوْا نَشْهَدُکہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہو
- اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِبیشک آپ البتہ اللہ کے رسول ہیں
- وَاللّٰهُاور اللہ
- يَعْلَمُجانتا ہے
- اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗبیشک آپ البتہ اس کے رسول ہیں
- وَاللّٰهُ يَشْهَدُاور اللہ گواہی دیتا ہے
- اِنَّبیشک
- الْمُنٰفِقِيْنَمنافق
- لَكٰذِبُوْنَالبتہ جھوٹے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
(جب منافقین تمہارے پاس آتے ہیں، کہتے ہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک تم اس کے رسول ہو اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اذا جاءک المنفقون قالو انشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون) (1)۔
(پختہ کار منافقین کا کردار)۔ ایک گروہ کے منافقانہ طرز عمل کی طرف اشارہ پچھلی سورة میں بھی ہوا ہے لیکن وہاں بات عام صیغہ سے در پردہ فرمائی گئی تھی، اس سورة میں پردہ بالکل اٹھا دیا گیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس میں ان منافقین کا کردار زیر بحث ہے جو نفاق میں اتنے پختہ ہوچکے تھے کہ ان سے کسی اصلاح کی توقع باقی نہیں رہی تھی چناچہ ان کے بارے میں آگے پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا بھی ہے کہ ان کے لیے تم مغفرت مانگو بھی تو اللہ ان کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ بلکہ دوسرے مقام میں یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر تم ستر بار بھی انکے لیے مغفرت مانگو جب بھی اللہ ان کی مغفرت فرمانے والا نہیں ہے۔
فرمایا کہ یہ منافقین جب تمہارے پاس پیغمبر ﷺ کے پاس آتے ہیں تو قسم کھا کر اقرار کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اللہ بھی قسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ عربی میں نشھد اور واللہ یشھد کے الفاظ قسم کے مفہوم کے حامل ہوتے ہیں۔ یعنی منافقین قسمیں کھا کھا کر پیغمبر ﷺ کو اپنے مومن و مسلم ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ ان کو قسمیں کھانے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آتی کہ ان کی پیہم غلطیوں نے ان کو اس قدر ساقط الاعتبار بنا دیا تھا کہ وہ خود بھی محسوس کرنے لگے تھے کہ جب تک قسم کھا کے وہ بابت نہیں کہیں گے کوئی اس کو باور نہیں کرے گا۔ جس آدمی کو اپنے عمل پر اعتماد ہوتا ہے وہ بےضرورت قسم نہیں کھاتا لیکن جس کو اپنے عمل پر بھروسہ نہ ہو اس کا واحد سہارا قسم ہی ہوتی ہے چناچہ یہی وجہ ہے کہ زیادہ قسم کھانے والے کی صفت قرآن میں مھین آئی ہے اور پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ (ولا تطع کل حلاف مھین (القلم : 68، 20) (اور تم زیادہ قسمیں کھانے والے ذلیل کی بات پر کان نہ دھرو)۔
(واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون) یہ فقرہ غایت درجہ بلیغ اور برمحل ہے۔ فرمایا کہ جہاں تک تمہارے رسول ہونے کا تعلق ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ان کی شہادت کی محتاج نہیں ہے اللہ کو خوب علم ہے کہ تم اس کے رسول ہو لیکن اللہ یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنی اس شہادت میں جھوٹے ہیں۔