Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 62. Al-Jumu'a · Ayah 9

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿9﴾

    1. يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓااے لوگو جو ایمان لائے ہو
    2. اِذَا نُوْدِيَ للصَّلٰوةِجب پکارا جائے نماز کے لیے
    3. مِنْ يَّوْمِدن
    4. الْجُمُعَةِجمعہ کے
    5. فَاسْعَوْاتو دوڑو
    6. اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِاللہ کے ذکر کی طرف
    7. وَذَرُوا الْبَيْعَاور چھوڑ دو تجارت
    8. ذٰلِكُمْیہ
    9. خَيْرٌ لَّكُمْبہتر ہے تمہارے لیے
    10. اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَاگر تم علم رکھتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
(اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگ آیات 9۔ 11 کا مضمون آگے مسلمانوں کی ایک غلطی پر گرفت فرمائی جو نماز جمعہ اور پیغمبر ﷺ کے احترام کے معاملے میں ایک جماعت سے صادر ہوئی۔ کوئی تجارتی قافلہ مدینہ میں داخل ہوا اس کی خبر سن کر کچھ لوگ عین اس وقت مسجد سے اٹھ کر چلے گئے جب آنحضرت ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ اگرچہ یہ فعل کچھ خام تربیت لوگوں ہی سے صادر ہوا لیکن اس سے جماعت کی بعض ایسی کمزوریوں کی نشان دہی ہوئی جن کی اصلاح ضروری تھی۔ ایک کمزوری تو یہ ظاہر ہوئی کہ معلوم ہوا کہ ابھی بہتوں کے اندر اس فضل عظیم کا کماحقہ شعور نہیں پیدا ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی شکل میں امیوں پر فرمایا ہے۔ دوسری یہ کہ ابھی لوگوں نے اس بیع و شراء کی حقیقت اچھی طرح نہیں سمجھی ہے۔ جس کا ذکر سورة صف کی آیات 10، 13 میں ہوا ہے کہ جو لوگ رسول سے سمع وطاعت کا عہد کر چکتے ہیں۔ وہ اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت کے عوض اپنی جان اور اپنے مال اللہ کے ہاتھ فروخت کر چکتے ہیں۔ ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی اور بیع و شراء کو اتنی اہمیت دیں کہ اس کے شوق میں اللہ کے رسول کو خطبہ دیتا ہوا چھوڑکر مسجد سے چل کھڑے ہوں۔ تیسری یہ کہ معلوم ہوا کہ ابھی لوگوں نے جمعہ کی عظمت کا صحیح اندازہ نہیں کیا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لئے بنی اسرائیل کے یوم السبت سے مشابہ ہے۔ بنی اسرائیل نے طمع دنیا اور ہوس شکار میں مبتلا ہو کر حرمت کو ہٹہ لگایا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کر کے ان کی شکلیں مسخ کردیں۔ اگر انہی کو مسلمان اس تجارت کی ہوس میں جمعہ کی حرمت کو بٹہ لگائیں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اللہ کے غضب سے محفوظ رہیں۔ یہ باتیں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور ان سے اس فضل عظیم کی نہایت کھلی ہوئی ناقدری ہوئی جو یہود کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے امیوں پر فرمایا۔ در جس کا نہایت اہتمام سے اس سورة میں ذکر ہوا ہے، اس وجہ سے ان لوگوں کو سرزنش کی گئی جو ان کے مرتکب ہو۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون) (9)۔ (خطاب کا ایک حکیمانہ انداز)۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن انہی لوگوں کی طرف سے جن کی کمزوری پر نکیر فرمائی گئی ہے۔ عام خطاب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ زیادہ رسوائی کا احساس نہیں کرتے جن کا رویہ زیر بحث ہوتا ہے بلکہ ان کے اندر سلامت روی ہوتی ہے تو وہ اس پردہ پوشی کو متکلم کی کریم النفسی پر محمول کرتے اور نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر تعین کے ساتھ نام لے کر ان کو سرانش کی جائے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر ضد اور امانیت کا جذبہ ابھرے۔ (جمعہ کی اذان)۔ للصلوٰۃ من یوم الجعۃ) میں (من یوم الجمعۃ) کے الفاظ صلوٰۃ کی وضاحت کے لیے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ یہاں زیر بحث خاص طور پر جمعہ کی نماز ہے۔ یہ جمعہ کی نماز ہی واحد چیز ہے جو جمعہ کے دن کو دوسرے دنوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہاں جس اذان کا ذکر ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہی اذن مراد ہو سکتی ہے جو خطبہ جمعہ سے پہلے دی جاتی ہے۔ روایات سے بلا اختلاف ثابت ہے کہ نبی ﷺ اور شیخین ؓ کے عہد مبارک میں جمعہ کی اذان ایک ہی تھی جو خطبہ سے پہلے دی جاتی تھی۔ ایک اذان کا اضافہ حضرت عثمان ؓ نے اپنے زمانے میں کیا جب مدینہ منورہ کی آبادی زیادہ ہوگئی۔ یہ مدینہ کے بازار میں حضرت عثمان ؓ کے مکان سے دی جاتی۔ اگرچہ یہ اذان سیدنا عثمان ؓ کا اضافہ ہے لیکن اس اضافے کو امت کے تمام اخیار نے بلا کسی نکیر کے قبول کیا۔ (فاسعوا الی ذکر اللہ) سعی کے معنی صرف دوڑنے کے نہیں آتے بلکہ یہ لفظ اصلاً کسی کام کو مستعدی اور سرگرمی کے ساتھ چاق و چوبند ہو کر کرنے کے لیے آتا ہے۔ غلام آقا کی پکار سن کر جب مستعدی سے اس کی طرف لپکتا ہے تو یہ سعی ہے۔ فرمایا کہ جب یہ اذان سنو تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ (خطبہ اور نما جمعہ)۔ (ذکر اللہ) یہاں خطبہ اور نماز دونوں کے لیے ایک جامع لفظ ہے۔ نماز کا ذکر ہونا تو واضح ہے، قرآن میں جگہ جگہ نماز کو ذکر ہی سے تعبیر کیا گیا ہے، رہا جمعہ کا خطبہ تو وہ در حقیقت نماز ہی کا حصہ ہے۔ جمعہ کی نماز ظہر کی نماز کے قائم مقام ہے جس کی چار رکعتیں جمعہ کے دن تخفیف ہو کر دور رہ جاتی ہیں اور ان کی جگہ خطبہ کی شکل میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ ذکر اللہ امام حاضرین مسجد کو مخاطب کر کے کرتا ہے۔ اس وجہ سے وہ ساری باتیں اس کا دائرہ میں آتی ہیں جو مسلمانوں کی صلاح و فلاح سے متعلق اور جن کے لیے وقت کے حالات مقتضی ہوں۔ اس کو چند رسمی دعائوں کی شکل میں محدود کردینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ (خطبہ اور نماز کا اہتمام و التزام)۔ (وز روا الجیع، لفظ بیع) اصلاً تو بیچنے کے معنی میں ہے لیکن یہ اپنے عام استعمال میں خریدو فروخت دونوں ہی کے لیے آتا ہے۔ اگرچہ یہاں ذکر بیح ہی کے چھوڑنے کا ہے لیکن جب بیع کے چھوڑنے کا ذکر ہوا جو نسبتہً زیادہ مرغوب ہے تو خرید کا چھوڑنا تو بدرجہ اولیٰ مطلوب ہوگا۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ دنیا کا ہر کام چھوڑ کر نماز کی طرف لپکو۔ بیع کے ذکر کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو واقعہ مسلمانوں کے لیے آزمائش کا سبب ہوا اور جس پر یہاں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ وہ بیع و شراء ہی سے متعلق تھا۔ (ذلکم خیر لکم ان کنتم تعملون)۔ یعنی بظاہر تو یہ حکم تم میں سے بعضوں پر گراں گزرے گا، تم اپنے کاروبار کا نقصان محسوس کرو گے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہی طریقہ تمہارے لیے موجب خیر و برکت ہے۔ رزق و فضل سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کی خوشنودی کے لیے تم کوئی نقصان گزارا کرو گے تو ابدی زندگی میں اس کا اجر اپنے رب کے پاس محفوظ کرلو گے اور ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں بھی وہ ایسی شکلیں پیدا کردے کہ تمہارے ہر نقصان کی تلافی ہوجائے۔ (ان کنتم تعملون) یعنی تمہیں اپنے نفع نقصان کا اندازہ اس دنیا کی محدود زندگی کو سامنے رکھ کر نہیں کرنا چاہیے بلکہ آخرت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ لیکن آخرت ایسی چیز ہے کہ اس کو سمجھنا چاہو گے تب ہی سمجھو گے۔