تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 2
اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿2﴾
- اِتَّخَذُوْٓاانہوں نے بنا لیا
- اَيْمَانَهُمْاپنی قسموں کو
- جُنَّةًڈھال
- فَصَدُّوْاتو انہوں نے روکا
- عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کے راستے سے
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- سَآءَکتنا برا ہے
- مَا كَانُوْاجو کچھ وہ ہیں
- يَعْمَلُوْنَوہ کررہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈال بنا رکھا ہے اور وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں۔ بیشک نہایت ہی برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(اتخذوا یمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ انھم ساء ما کانو یعملون) (2)۔
(قسم کو سپر بنانے والوں کا انجام)۔ لیکن انہوں نے تمہاری گرفت سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی قسموں کو ڈھال بنایا ہے کہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کے سبب جو وہ اسلام کے خلاف برابر کررہے ہیں۔ تمہیں ان کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو، وہ اسلام کے برابر مخلص سمجھے جاتے رہیں۔ سورة مجادلہ آیت 14 میں ان منافقین ہی کی یہ سازش بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے خدا کی مغضوب قوم یہود سے دوستی گانٹھ رکھی ہے۔ ایک طرف اپنی قسموں کے ذریعہ سے انہیں اطمینان دلا رکھا ہے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کو بھی قسم کھا کر اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھی ہیں۔ اس کے بعد معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یہی آیت وہاں بھی آئی ہے۔ فرمایا ہے۔
(اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہ ِ فَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ۔) (المجادلۃ : 58، 16) (انہوں نے اپنی قسموں کو سپربنا رکھا ہے پس وہ اللہ کی راہ سے رک گئے اور ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔)
یعنی اس سپر کی آڑ میں وہ بزعم خود اپنے کو بہبود سے بھی محفوظ کیے ہوئے ہیں اور مسلمانوں سے بھی اور اس طرح انہوں نے اللہ کی راہ میں جو قدم اٹھایا تھا وہ روک لیا ہے لیکن یہ پناہ گاہ زیادہ عرصہ تک ان کی حفاظت نہ کرسکے گی بلکہ بہت جلد ان کو ایک ذلیل کرنے والے عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا۔ (فصدوا عن سبیل اللہ لفظ صد) لازم اور تدی دونوں آتا ہے۔ یہاں قرینہ دلیل کہ لازم کے مفہوم میں ہے۔ یعنی پہلے اسلام کی طرف انہوں نے قدم بڑھایا لیکن قسموں کی آڑ میں اب رک گئے۔ ان کے گمان یہ ہے کہ جب مجردقسموں کے بل پر بھی اپنی اسلامیت کی دھونس جمائی جاسکتی ہے اور مسلمانوں کو دھوکا دیا جاسکتا ہے تو اس سے آگے بڑھ کر اپنے لیے خطرات کو کیوں دعوت دی جائے۔ فرمایا کہ (انھم ساء ما کانو یعملون) وہ اس کو بڑی دانشمندانہ سیاست سمجھ رہے ہیں لیکن یہ دانشمندانہ سیاست نہیں بلکہ نہایت ہی احمقانہ چال ہے جس کے نہایت مہلک نتائج ان کے آگے آئیں گے۔