Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 3

  1. ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ﴿3﴾

    1. ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْیہ بوجہ اس کے کہ بیشک وہ
    2. اٰمَنُوْاایمان لائے
    3. ثُمَّ كَفَرُوْاپھر انہوں نے کفر کیا
    4. فَطُبِعَتو مہر لگا دی گئی
    5. عَلٰياوپر
    6. قُلُوْبِهِمْان کے دلوں کے
    7. فَهُمْپس وہ
    8. لَا يَفْقَهُوْنَسمجھتے نہیں ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس سبب سے ہے کہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی پس یہ سمجھنے سے عاری ہوگئے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ذلک بانھم امنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبھم فھم لا یفھون) (3)۔ فرمایا کہ یہ راہ انہوں نے اس وجہ سے اختیار کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے۔ جس کے سبب سے وہ فکر سلیم کی نعمت سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس مہر کے لگنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کی راہ اختیار کرلی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جن کو وہ ایک مرتبہ اسلام کی روشنی دکھا دیتا ہے اگر وہ اس کی قدر کرتے ہیں تو ان کی روشنی میں اضافہ کرتا ہے اور اگر قدر نہیں کرتے بلکہ مڑ مڑ کر پیچھے ہی کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کی وہ روشنی بھی سلب ہوجاتی ہے اور ان کے دل پر مہر بھی کردی جاتی ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ پھر وہ صحیح سونچنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ بہبود کے دلوں پر جو مہر لگی اس کے وجوہ اور اثرات کی تفصیل سورة بقرہ میں بیان ہوئی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ انہی لوگوں کے بارے میں حضرت مسیح ؑ نے فرمایا کہ ان سے وہ بھی لے لیا جاتا ہے جو ان کے پاس ہوتا ہے۔