Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 4

  1. وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿4﴾

    1. وَاِذَاپھر جب
    2. رَاَيْتَهُمْتم دیکھو ان کو
    3. تُعْجِبُكَاچھے لگیں گے تم کو
    4. اَجْسَامُهُمْان کے جسم
    5. وَاِنْ يَّقُوْلُوْااور اگر وہ بات کریں
    6. تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْتم سنتے جاؤ ان کی بات کو
    7. كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
    8. خُشُبٌلکڑیاں ہیں
    9. مُّسَنَّدَةٌتختہ لگائی ہوئیں
    10. يَحْسَبُوْنَوہ سمجھتے ہیں
    11. كُلَّ صَيْحَةٍہر سخت آواز کو
    12. عَلَيْهِمْاپنے اوپر
    13. هُمُوہ
    14. الْعَدُوُّدشمن ہیں
    15. فَاحْذَرْهُمْپس ڈرو ان سے۔ بچو ان سے
    16. قٰتَلَهُمُ اللّٰهُغارت کرے ان کو اللہ
    17. اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَکہاں سے وہ پھرے جاتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں اچھے لگتے ہیں اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو تم ان کی بات سنتے ہو لیکن ان کی مثال ایسی ہے گویا وہ لکڑی کے کندھے ہوں جنہیں دیوار سے ٹیک لگا دی گئی ہو۔ وہ ہر خطرہ اپنے ہی اوپر سمجھتے ہیں۔ اصلی دشمن وہی ہیں پس ان سے بچ کے رہو۔ اللہ ان کو غارت کرے ! کس طرح ان کی عقل الٹ گئی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(واذا ارایتھم تعجبک جسامھم وان یقولو تسمع لقولھم کا نھم خشت مسندۃ یحسبون کل صحیۃ علیھم ھم العدونا حذرھم قتلھم اللہ انی یوفکون) (4)۔ (منافقین کے ظاہر اور باطن کی تصویر)۔ یہ ان منافقین کی تصویر ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں ان کے ظاہر اور باطن دونوں کی اس طرح تصویر کھینچ دی گئی ہے کہ کوئی پہلو بھی مخفی نہیں رہ گیا ہے۔ اوپر کے دو فقروں میں ان کے ظاہر کی تصویر ہے۔ بعد کے دو فقروں میں ان کے باطن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پھر پیغمبر ﷺ کو ان سے ہوشیار رہنے کی تاکید اور ساتھ ہی ان کی حالت پر اظہار افسوس ہے۔ (واذا رایتھم تعجبک احیسامھم) فرمایا کہ جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کے پلے ہوئے جسم اور ان کی پالش کی ہوئی شکلیں تمہیں دل کش معلوم ہوتی ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ ان منافقین کے مالی حالات اچھے تھے۔ اول تو انہوں نے حرام و حلال ہر راستہ سے، دولت اکٹھی کر رکھی تھی۔ دوسرے یہ انتہاء درجہ کے نجیل تھے، اپنے ذاتی آرام وعیش کے سوا کسی دوسرے دینی و اجتماعی کام پر کوڑی بھی خرچ کرنے کے روادار نہ تھے۔ ان کی اس رفاہیت کا اثر ان کے جسموں اور ان کی شکلوں میں نمایاں تھا۔ ان کا سردار مشہور منافق عبد اللہ بن ابی بڑا دولت مند تھا۔ اس کے جتھے کے دوسرے آدمی بھی خوش حال تھے۔ (وان یقولو اتسمع لقولھم) یعنی یہ بڑے چرب زبان بھی ہیں۔ جب باتیں کرتے ہیں تو اسلام کی حمیت و حمایت میں اس طرح تقریر کرتے ہیں کہ مخاطب کا دل موہ لتے ہیں اور وہ ان کی باتیں سننے لگتا ہے۔ اوپر ذکر آیا ہے کہ یہ لوگ اللہ و رسول کو اپنی وفاداری کا یقین اپنی قسموں اور جادو بیانی سے دلاتے ہیں۔ سورة محمد میں ان کی یہ خصوصیت بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ زبان سے جوش جہاد کا اظہار بہت کرتے ہیں لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو چھپنے لگے۔ ان منافقین کو چونکہ اندازہ تھا کہ ان کی بزدلی پیغمبر ﷺ پر بھی ظاہر ہے اور عام مسلمانوں پر بھی اس وجہ سے جب بھی یہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کوشش کرتے کہ اپنے زور خطابت سے حضور ﷺ کو یہ باور کرا دیں کہ وہ اسلام کے فدائی اور اس کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردینے والے ہیں۔ حضور ﷺ اگرچہ زبان کے ان غازیوں سے اچھی طرح واقف تھے لیکن کریم النفسی کے سبب سے آپ ﷺ ان کی باتیں سن لیتے جن سے ان کو اطمینان ہوجاتا کہ ان کی جادو بیانی کا رگر ہوگئی۔ (کا نھم حشب مسندۃ) یہ انکے باطن پر عکس ڈالا گیا ہے کہ ہرچند ان کے جسم اور ان کی شکلیں دل کشی ہیں لیکن ان کے جسموں کے اندر جو دل ہیں وہ مردہ ہیں۔ ان پر جیسا کہ اوپر والی آیت میں فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے۔ اس روحانی اور قلبی موت کے سبب سے تمہاری مجلس میں ان کی مثال بالکل ایسی ہوتی ہے کہ گویا لکڑی کے کھوکھلے کندے ہوں جنہیں لباس پہنا کر دیواروں سے ٹیک لگا دی گئی ہو۔ (یحسبون کل صیحہ علیھم صیحۃ) کے لغوی معنی توچیخ کے ہیں لیکن یہ خطرہ کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ اپنی طاقت لسانی سے تمہیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ بڑے بہادر اور اسلام کی راہ میں ہر قربانی کے لیے تیار ہیں لیکن یہ پرلے سرے کے بزول ہیں۔ کہیں بھی کوئی خطرہ نمودار ہو یہ اپنی بزدلی کے سبب سے خیال کرتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ بجلی انہی پر گرنے والی ہے۔ جن کی بزدلی کا یہ خیال ہے ان سے اس وقت کیا توقع کی جاسکتی ہے جب فی الواقع انہیں کسی حقیقی خطرے کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ (ھم العدونا حذرھم) یعنی یہ تو اپنے کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے تمہاری نظروں میں دوسروں کو مشکوک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسلام کے اصلی دشمن در حقیقت یہی ہیں۔ ان سے ہر وقت چوکنے رہو۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ ان منافقین کی ایک چال یہ بھی تھی کہ یہ جن جرائم کا ارتکاب خود کرتے ان کا الزام دوسرے بےگناہ مسلمانوں کے سر تھوپتے تاکہ حضور ﷺ کے سامنے یہ بےگناہ بنے رہیں۔ (قتلھم اللہ انی یونکون)۔ یہ ان کی زجر و ملامت بھی ہے اور ان کے حال پر اظہار افسوس بھی۔ فرمایا کہ اللہ ان کو غارت کرے ! یہ کس طرح اوندھے کردیئے گئے ہیں کہ ان کا ہر قدم الٹا ہی پڑ رہا ہے ! ان منافقین کے اس کردار کی تصویر قرآن میں جگہ جگہ کھینچی گئی ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک مثال سورة بقرہ سے پیش کرتے ہیں۔ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللہ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ۔ وَاِذَا تَوَلّٰی سََعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَط وَ اللہ ُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ۔ وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللہ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُط وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ۔) (البقرۃ، 3، 204، 206) اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جن کی بات دنیا کی زندگی کے باب میں تمہیں دل کش لگتی ہے اور وہ اپنے دل کے حال پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ بد ترین دشمن ہیں اور جب وہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ زمین میں اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں فساد برپا کریں اور مال و جان کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا اور جب ان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو عزت کا خیال ان کو گناہ میں گرفتار کرلیتا ہے تو ان کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانہ ہے۔)