تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 5
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ﴿5﴾
- وَاور
- اِذَا قِيْلَ لَهُمْجب ان سے کہا جاتا ہے
- تَعَالَوْاآؤ
- يَسْتَغْفِرْ لَكُمْبخشش مانگتے ہیں تمہارے لیے
- رَسُوْلُ اللّٰهِاللہ کے رسول
- لَوَّوْاموڑتے ہیں
- رُءُوْسَهُمْاپنے سروں کو
- وَرَاَيْتَهُمْاور تم دیکھتے ہو ان کو
- يَصُدُّوْنَوہ باز رہتے ہیں
- وَهُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَاور وہ تکبر کرنے والے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو، اللہ کا رسول تمہارے لیے استغفار کرے تو وہ اپنے سر مٹکاتے ہیں اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ غرور کے ساتھ اعراض کرتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(واذا قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووارء وسھم ورایتھم یصدون و ھم مستلبرون) (5)۔
(جھوٹی عزت نفس)۔ یہ وہی بات ذرا مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے جو سورة ٔ بقرہ کی مندرجہ بالا آیت میں (واذا فیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزیز بالا ثم) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کے نوٹس میں آنے کے بعد جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کرو تاکہ حضور ﷺ تمہارے لیے استغفار کریں اور آپ ﷺ کا استغفار اللہ کے ہاں تمہارے لیے سفارش بنے تو اکڑتے اور اپنے سر مٹکاتے ہیں اور نہایت غرور کے ساتھ اس سے اعراض کرتے ہیں۔
ان کے سفر وارنہ اعراض کا اظہار ان کا جوارح سے جس طرح ہوتا ہے اس کی تعبیر (لووا رو سھم) کے الفاظ سے کی گئی ہے اور یہ بلیغ ترین تعبیر ہے۔ باطن میں اس کا جو اثر مرتب ہوتا ہے اس کو (یصدون وھم مستکرون) کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ گویا ان کا ظاہر و باطن دونوں سامنے کردیا گیا ہے۔ یہ امر ملحوظ ہے کہ جن لوگوں کے اندر اخلاقی جرأت نہیں ہوتی وہ اپنے گناہوں کے ظاہر ہوجانے کے بعد بھی ان کا اعتراف یا ان پر اظہار ندامت نہیں کرتے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر ایک بار اعتراف جرم کرلیا تو ہمیشہ کے لیے بھرم ختم ہوجائے گا۔ ان کی یہ کمزوری ان کو ان کے گناہوں کے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔ اس چیز کو سورة بقرہ والی آیت میں (اخذتہ العزۃ بالاثم) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔