Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 6

  1. سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ﴿6﴾

    1. سَوَآءٌ عَلَيْهِمْبرابر ہے ان پر
    2. اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْخواہ تم بخشش مانگو ان کے لیے
    3. اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْیا نہ تم بخشش مانگو
    4. لَهُمْان کے لیے
    5. لَنْہرگز نہ
    6. يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْمعاف کرے گا اللہ ان کو
    7. اِنَّ اللّٰهَکیونکہ اللہ تعالیٰ
    8. لَا يَهْدِينہیں ہدایت دیتا
    9. الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَفاسق قوم کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کے لیے یکساں ہے، تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو، اللہ ان کو ہرگز معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(سواء علیھم استغفرت لھم امر لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم ان اللہ لا یھدی القوم الفسقین) (6)۔ (گناہوں پر اصرار کرنے والوں کو اللہ مغفرت سے محروم کردیتا ہے)۔ ان کے اس غرور و اعراض کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خطاب کر کے ان کے بارے میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ تم ان کے لیے مغفرت مانگو یہ نہ مانگو، اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنی ہدایت سے نہیں نوازتا جو نافرمانی پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ ہدایت صرف انہی کو دیا کرتا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سورة نساء میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ (وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَآئُ ْوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔) (النساء : 4۔ 64) (اور ﷺ اگر وہ جب کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تمہارے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت مانگتا تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔) جو لوگ اللہ اور رسول سے اکڑتے ہیں سورة توبہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا : (اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْط اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ) التوبۃ : 9، 80) (ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو۔ اگر تم ستر بار بھی انکے لیے مغفرت چاہو گے تو بھی اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔)