Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 7

  1. هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ﴿7﴾

    1. هُمُ الَّذِيْنَوہ لوگ ہیں
    2. يَقُوْلُوْنَجو کہتے ہیں
    3. لَا تُنْفِقُوْانہ تم خرچ کرو
    4. عَلٰياوپر
    5. مَنْ عِنْدَاس کے جو پاس ہیں
    6. رَسُوْلِ اللّٰهِاللہ کے رسول کے
    7. حَتّٰى يَنْفَضُّوْایہاں تک کہ وہ بھاگ جائیں
    8. وَلِلّٰهِاور اللہ کے لیے ہیں
    9. خَزَآئِنُخزانے
    10. السَّمٰوٰتِآسمانوں کے
    11. وَالْاَرْضِاور زمین کے
    12. وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَلیکن منافق لوگ
    13. لَانہیں
    14. يَفْقَهُوْنَسمجھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر تم لوگ اپنے مال خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں تاکہ وہ منتشر ہوجائے اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے لیکن منافقین نہیں سمجھتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ھم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا وللہ خزائن السموات والارض ولکن المنفقین لا یفقھون) (7)۔ (اللہ تعالیٰ کے غضب کا سبب) یہ سبب بتایا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے اس غضب کے مستحق کیوں ٹھہرے کہ اگر رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لیے ستر بار مغفرت مانگیں جب بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمانے والا نہیں ہے۔ ارشاد ہوا کہ یہی لوگ ہیں جو لوگوں کو روکتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ 6 ھ؁ میں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر نبی ﷺ نے جس چشمہ پر پڑائو ڈالا وہاں پانی کے بارے میں ایک غریب مہاجر اور ایک انصاری میں جھگڑا ہوگیا۔ مہاجر نے انصاری کو تھپڑ ماردیا۔ انصاری نے انصار کی دہائی دی اور مہاجر نے مہاجرین کی۔ دونوں طرف کے آدمی تلواریں سونت سونت کر اکٹھے ہوگئے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے بات زیادہ بڑھنے نہ پائی۔ لیکن عبد اللہ بن ابی نے جو اس طرح کے مواقع کی ہمیشہ گھات میں رہتا، موقع سے فائدہ اٹھا کر مہاجرین کے خلاف انصار کے جذبات بھڑکانے کے لیے نہایت زہر آلود فقرے کہے۔ اس نے کہا کہ ”یہ ہمارے گھر میں پناہ پا کر اب ہمیں یہ غرانے لگے ہیں۔ سچ کہا ہے جس نے کہا ہے کہ رکشے کو موٹا کردیا بالآخر تمہی کو کاٹے گا۔ خدا کی قسم ! اب ہم پلٹے تو جو باعزت ہیں وہ رذیلوں کو وہاں سے نکال کے رہیں گے۔ انصار کے جو آدمی اس دوران میں اس کے ارد گرد جمع ہوگئے تھے ان کو مخاطب کر کے اس نے کہا ”یہ تمہاری اپنی غلطی کا خمیازہ ہے جو تمہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ تم نے اپنے گھر میں ان کو اتارا اور اپنے مال میں ان کو حصہ دار بنایا۔ خدا کی قسم ! اگر تم ان کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیتے تو یہ کب کے یہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ہوتے“۔ آیت میں اس کے انہی فقروں میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جن کے دلوں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ بغض و حسد بھرا ہوا ہے اللہ تعالیٰ ان کو کیسے معاف کرسکتا ہے ! (عبد اللہ بن ابی کے طعنوں کا جواب)۔ (واللہ خزائن السموات والارض ولکن المنفقین لا یفقھون) یہ عبد اللہ بن ابی کی بات کا جواب ہے کہ یہ منافق سمجھتا ہے کہ اگر وہ اس کے ساتھ مہاجرین کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیں گے تو ان کا کوئی سہارا باقی نہیں رہ جائے گا حالانکہ آسمانوں اور زمین کے سارے خزانے اللہ ہی کے قبضہ ہیں۔ وہی جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جن سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے لیکن ان منافقوں کے دنوں پر چونکہ مہر لگ چکی ہے اس وجہ سے یہ اس حقیقت کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔