Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 8

  1. یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿8﴾

    1. يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
    2. لَئِنْ رَّجَعْنَآالبتہ اگر لوٹے ہم
    3. اِلَى الْمَدِيْنَةِمدینہ کی طرف
    4. لَيُخْرِجَنَّالبتہ ضرور نکالے گا
    5. الْاَعَزُّ مِنْهَازیادہ عزت والا اس سے
    6. الْاَذَلَّزیادہ ذلیل کو
    7. وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُاور اللہ کے لیے ہے عزت
    8. وَلِرَسُوْلِهٖاور اس کے رسول کے لیے
    9. وَلِلْمُؤْمِنِيْنَاور مومنوں کے لیے
    10. وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَلیکن منافق لوگ
    11. لَا يَعْلَمُوْنَعلم نہیں رکھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹے مدینہ کو تو جو غالب ہیں وہ وہاں سے ان کو نکال چھوڑیں گے جو بالکل بےحیثیت ہیں، حالانکہ غلبہ اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے لیکن یہ منافقین نہیں جانتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الازل وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنفقین لا یعلمون) (8)۔ یہ عبد اللہ بن ابی کے اس دوسرے زہر آلود فقرے کی طرف اشارہ ہے جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ اس نے انصار کو مہاجرین کے خلاف اکسانے کے لیے یہ بھی کہا کہ اب مدینہ واپس ہوتے ہیں پہلا کام یہ کرنا ہے کہ جو عزت و اقتدار والے ہیں (یعنی انصار) وہ ان لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے جو ذلیل ہیں۔ یہ اشارہ اس کا مہاجرین کی طرف تھا۔ یعنی اس نے وہی جاہلی نعرہ لگایا جو اہل عرب کا شعار تھا کہ اس سر زمین پر ہم ہمیشہ عزت و اقتدار والے رہے ہیں اور یہ ہمارا ہی حق ہے۔ ہم یہ کس طرح گوارا کرسکتے ہیں کہ جو ہمارے ہاں پناہ لینے آئے وہ ہمارے آدمیوں کو طمانچے لگائیں۔ (وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنفقین لا یعلمون) یہ اس نعرہ جاہلی کا جواب ہے کہ عزت تو اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے ہے اور سنت الٰہی کے مطابق اب اس کا ظہورکا وقت آگیا ہے لیکن یہ منافقین اس کو نہیں جانتے۔ اس سنت کا حوالہ سورة مجادلہ میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللہ وَرَسُوْلَـہٗٓ اُولٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ۔ کَتَبَ اللہ ُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْط اِنَّ اللہ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔) (المجادلۃ : 58، 20، 21) (جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں ذلیل ہونے والے وہی بنیں گے۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، بیشک اللہ قوی اور غالب ہے۔)