Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 14

  1. اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ع﴿14﴾

    1. اَلَا يَعْلَمُکیا نہیں جانے گا
    2. مَنْ خَلَقَوہ جس نے پیدا کیا
    3. وَهُوَ اللَّطِيْفُاور وہ باریک بین ہے
    4. الْخَبِيْرُباخبر ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ نہ جانے لگا جس نے پیدا کیا ہے تو بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ تمہارے ہر ظاہر و باطن سے آگاہ ہے یا اسے آگاہ ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ جب وہ تمہارا خالق ہے اور اس کے خالق ہونے سے کسی کے لیے مجال انکار نہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے ناواقف ہو۔ جس نے تمام قابلیتوں اور صلاحیتوں کو وجود بخشا اور جس کے حکم سے ساری مشینری حرکت کر رہی ہو وہ اپنی مخلوق کی کسی نقل و حرکت سے کس طرح بے خبر رہ سکتا ہے! ’وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ ’لَطِیْفٌ‘ کے معنی، جیسا کہ جگہ جگہ اس کی وضاحت ہو چکی ہے، باریک بین اور دقیقہ رس کے ہیں۔ فرمایا کہ حقیقی باریک بین اور باخبر تو وہی ہے۔ دوسرا اگر کسی کی زندگی کے کسی پہلو سے واقف ہوتا ہے تو اس کی واقفیت جزوی اور ناتمام ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ سب کو وجود میں لانے والا اور سب کو رزق و زندگی بخشنے والا ہے اس وجہ سے اس کا علم ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل وہ گمراہی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم کے باب میں قوموں کو لاحق ہوئی۔ جب تک خدا کے علیم و خبیر ہونے کا صحیح تصور دل میں راسخ نہ ہو اس وقت تک انسان کے اندر نہ اس کی خشیت پیدا ہو سکتی اور نہ وہ خدا کے اعتماد و توکل کی حقیقی لذت سے آشنا ہو سکتا۔