تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ﴿15﴾
- هُوَوہ
- الَّذِيْاللہ وہ ذات ہے
- جَعَلَجس نے بنایا
- لَكُمُ الْاَرْضَتمہارے لیے زمین
- ذَلُوْلًاتابع۔ فرش
- فَامْشُوْاپس چلو
- فِيْ مَنَاكِبِهَااس کے اطراف میں
- وَكُلُوْااور کھاؤ
- مِنْ رِّزْقِهٖاس کے رزق میں سے
- وَاِلَيْهِاور اسی کی طرف
- النُّشُوْرُدوبارہ زندہ ہونا
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرمانبردار ناقہ کے مانند بنایا تو تم اس کے مونڈھوں میں چلو پھرو اور اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق میں سے بر تو اور اس کی طرف پھر اکٹھے ہونا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
زمین کے آثار ربوبیت کی طرف اشارہ:
اوپر آسمان کے عجائب قدرت و حکمت سے استشہاد کیا تھا یہ زمین کے آثار ربوبیت سے قیامت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نہایت مطیع و فرماں بردار بنایا ہے کہ تم اس کی بلندیوں اور پستیوں، اس کی وادیوں اور کوہساروں میں چلو پھرو اور اس میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو رزق پھیلا رکھا ہے اس سے بہرہ مند ہو اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ ایک دن اسی کے حضور میں سب کو اکٹھے ہونا ہے۔
لفظ ’ذَلُوْلٌ‘ اور ’مَنَاکِبُ‘ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں ایک تمثیل مضمر ہے۔ یعنی اس زمین کی مثال ایک فرماں بردار ناقہ سے دی گئی ہے۔ اس کے اندر جو درے اور راستے اور جو وادی و کہسار ہیں ان کو ناقہ کے ’مناکب‘ یعنی مونڈھوں اور کندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور انسانوں کو اس ناقہ کے جسم پر اس طرح فرض کیا گیا ہے گویا وہ اس کے مونڈھوں اور کندھوں میں جوئیں ہوں ان کی پرورش کا سارا سامان ناقہ کے مونڈھوں اور شانوں ہی میں موجود ہوتا ہے۔ وہ انہی کے اندر چلتی پھرتی بھی ہیں اور وہیں سے اپنی غذا بھی حاصل کر لیتی ہیں۔
ربوبیت کا لازمی تقاضا: ’کُلُوْا مِنۡ رِّزْقِہٖ وَإِلَیْْہِ النُّشُوْرُ‘۔ یہ وہ اشارہ ہے جو ربوبیت کا یہ اہتمام و انتظام زبان حال سے انسان کو کر رہا ہے کہ اس رزق و امن سے فائدہ اٹھاؤ اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ جس خدا نے تمہارے لیے بلا استحقاق یہ اہتمام کیا ہے وہ تمہیں شتر بے مہار اور غیر مسؤل بنا کے چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ ایک دن تمہیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد پھر اٹھنا اور اپنے رب کی طرف لازماً جانا ہے۔ اس لیے کہ یہ بات عقل اور فطرت کے بالکل خلاف ہے کہ انسان کو نعمتیں اور حقوق تو حاصل ہوں لیکن وہ مسؤلیت سے بری رہے۔