تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 19
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ﴿19﴾
- اَوَلَمْ يَرَوْاکیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں
- اِلَى الطَّيْرِپرندوں کی طرف
- فَوْقَهُمْان کے اوپر
- صٰٓفّٰتٍصف بستہ
- وَّيَقْبِضْنَاور سمیٹ لیتے ہیں
- مَا يُمْسِكُهُنَّنہیں تھامتا ان کو
- اِلَّا الرَّحْمٰنُمگر رحمن
- اِنَّهٗبیشک وہ
- بِكُلِّ شَيْءٍۢہر چیز کو
- بَصِيْرٌدیکھنے والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا، وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کو خدائے رحمان ہی سنبھالتا ہے۔ بیشک وہی ہر چیز کی نگرانی رکھنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ہر چیز خدا ہی کے تھامے تھمی ہوئی ہے:
یعنی اس دنیا میں کوئی چیز بھی، خواہ اوپر ہو یا نیچے، نہ خود کار ہے نہ اپنے بل بوتے پر ٹکی ہوئی ہے بلکہ اللہ ہی اس کو حرکت دیتا ہے اور وہی اس کو تھامتا ہے۔ زمین ہمارے قدموں کے نیچے ٹکی ہوئی ہے تو اس وجہ سے ٹکی ہوئی ہے کہ خدا نے اس کو ٹکا رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو نہ تھامے رکھے تو، جیسا کہ اوپر اشارہ ہے، وہ سب کے سمیت کہیں سے کہیں جا نکلے۔ اسی طرح آسمان اگر ہمارے سروں پر تھما ہوا ہے تو خود نہیں تھما ہوا ہے بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے تھام رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو چھوڑ دے تو کیا عجب وہ ہمارے اوپر ہی گر پڑے۔ اسی حقیقت کو یہاں مثال سے سمجھایا ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے سروں پر پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ پروں کو پھیلائے ہوئے بھی اڑتے ہیں اور پروں کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان دونوں ہی حالتوں میں خدائے رحمان ہی ہے جو ان کو فضا میں تھامے رہتا ہے۔ وہ نہ تھامے تو وہ فوراً گر پڑیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہی پر قیاس کرو اس فضائے لامتناہی کے کواکب و نجوم اور اس کے ثوابت اور سیاروں کو۔ وہ اگر ٹکے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے کہ خدا نے ان کو سنبھال رکھا ہے ورنہ ان میں سے کوئی ایک بھی گر کر پورے کرۂ زمین کو تہ و بالا کر دے۔
’اِنَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ بَصِیْرٌ‘۔ یعنی یہ خدائے رحمان ہی کی رحمت ہے کہ وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور اس کو سنبھالے ہوئے ہے ورنہ کسی چیز کا کوئی ایک پیچ بھی ذرا سا ڈھیلا ہو جائے تو یہ سارا عالم چشم زدن میں تباہ ہو جائے۔