تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿22﴾
- اَفَمَنْ يَّمْشِيْکیا پھر جو چلتا ہے
- مُكِبًّاسرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر
- عَلٰي وَجْهِهٖٓاپنے چہرے پر
- اَهْدٰٓىزیادہ ہدایت یافتہ ہے
- اَمَّنْ يَّمْشِيْیا جو چلتا ہے
- سَوِيًّاسیدھا
- عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍسیدھے راستے پر
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ جو اوندھے منہ چل رہا ہے راہ یاب ہونے والا بنے گایا وہ جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
گمراہی کی اصل علت:
اب یہ وضاحت فرمائی ہے اس بات کی کہ کیوں ان لوگوں پر ہدایت کی راہ نہیں کھل رہی ہے اور سمجھانے کے باوجود یہ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں؟
فرمایا کہ یہ لوگ کتے کے مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شائد کوئی چیز کھانے کی مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سرجھکائے، آنکھ بند کیے، اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پا سکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر، سر اٹھا کر، دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے انسان کو مستوی القامت پیدا کیا، جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا، لیکن بہت سے انسان جانوروں ہی کی روش کی تقلید کرتے ہیں اور اس طرح وہ اس اعلیٰ خصوصیت کو کھو بیٹھتے ہیں جو انسان کا اصلی شرف اور تمغۂ امتیاز ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خواہشوں کے پیچھے چلنے والوں کی مثال قرآن میں جگہ جگہ جانوروں بالخصوص کتوں سے دی گئی ہے۔