Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 24

  1. قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿24﴾

    1. قُلْکہہ دیجئے
    2. هُوَ الَّذِيْوہ اللہ وہ ذات ہے
    3. ذَرَاَكُمْجس نے پھیلایا تم کو
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَاور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ہے اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل حقیقت کی یاددہانی نئے اسلوب میں: اب یہ اس اصل حقیقت کی پھر یاددہانی کر دی کہ اگر تم عقل سے کام لو تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جس خدا نے تم کو زمین میں بویا اور تمہاری پرورش کر رہا ہے وہ تم کو یونہی چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ کر اپنے کھلیان میں جمع کرے گا۔ پھر اس کے دانے کو بھس سے الگ کرے گا اور اس کو کھتے میں جمع کر کے بھس کو جلا دے گا۔ ایک کسان جب اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرند سے اس کی حفاظت کرتا ہے تو ہر شخص بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا، اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا۔ آخر یہی واضح حقیقت خدا کے متعلق تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟ کیا تم کو خدا نے بالکل عبث پیدا کیا ہے اور تمہاری ربوبیت کا یہ سارا سامان بالکل بے مقصد ہے؟ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے یہاں جو حقیقت نہایت سادہ لفظوں میں بیان کر دی ہے قدیم صحیفوں، خصوصاً انجیل میں، مختلف اسلوبوں سے، بیان ہوئی ہے۔ یہ آیت سورۂ مومنون میں بھی گزر چکی ہے اور ہم وہاں بھی اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو آیت ۷۹ پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔