Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 51

  1. وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ﴿51﴾

    1. وَاِنْ يَّكَادُاور بیشک قریب ہے کہ
    2. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا
    3. لَيُزْلِقُوْنَكَالبتہ پھیلا دیں گے آپ کو
    4. بِاَبْصَارِهِمْاپنی نگاہوں سے
    5. لَمَّا سَمِعُواجب وہ سنتے ہیں
    6. الذِّكْرَذکر کو
    7. وَيَقُوْلُوْنَاور وہ کہتے ہیں
    8. اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌبیشک وہ البتہ مجنون ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کافر جب یاددہانی سنتے ہیں تو اس طرح تمہیں دیکھتے ہیں گویا اپنی نگاہوں کے زور سے تمہیں پھسلا دیں گے اور کہتے ہیں لاریب یہ ایک دیوانہ ہے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت کا تعلق بھی تلقین صبر و ثبات کے اس مضمون ہی سے ہے جو ’فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ‘ میں بیان ہوا ہے۔ یعنی اگرچہ حالات نہایت سخت ہیں۔ کفار جب قرآن سنتے ہیں تو تمہیں اس طرح گھورتے اور ایسی تیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کے زور سے تمہیں دھکیل کر تمہارے مقام سے تمہیں پھسلا دیں گے اور جوش غضب میں تمہیں خبطی اور مجنوں بتاتے ہیں لیکن ان کے اس رویہ کے باوجود تم اپنے موقف پر ڈٹے رہو۔ یہاں ابتدائے سورہ کی آیت ’مَا أَنتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوۡنٍ‘ ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ سورہ جس مضمون سے شروع ہوئی تھی اسی پر ختم ہو رہی ہے۔