Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 134

  1. وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ﴿134﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. وَقَعَواقع ہوا
    3. عَلَيْهِمُان پر
    4. الرِّجْزُعذاب
    5. قَالُوْاکہنے لگے
    6. يٰمُوْسَىاے موسیٰ
    7. ادْعُدعا کر
    8. لَنَاہمارے لیے
    9. رَبَّكَاپنا رب
    10. بِمَاسبب۔ جو
    11. عَهِدَعہد
    12. عِنْدَكَتیرے پاس
    13. لَئِنْاگر
    14. كَشَفْتَتونے کھول دیا (اٹھا لیا)
    15. عَنَّاہم سے
    16. الرِّجْزَعذاب
    17. لَنُؤْمِنَنَّہم ضرور ایمان لائیں گے
    18. لَكَتجھ پر
    19. وَلَنُرْسِلَنَّاور ہم ضرور بھیجدیں گے
    20. مَعَكَتیرے ساتھ
    21. بَنِيْٓ اِ سْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو درخواست کرتے کہ اے موسیٰ تم اپنے رب سے، اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے، ہمارے لیے دعا کرو۔ اگر تم نے ہم یہ آفت دور کردی تو ہم تمہاری بات ضرور مان لیں گے۔ اور تمہارے ساتھ بنی اسائیل کو جانے دیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ الایہ۔ لَمَّا، کُلَّمَا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ خاص طور پر ان مواقع میں جہاں مد نظر تصویر حال ہو۔ آگے آیت 189 میں اس کی نظیر موجود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب جب وہ عذاب کی گرفت میں آتے حضرت موسیٰ کی منت سماجت کرنے لگتے کہ اس قرب وتعلق کی بنا پر جو تمہیں اپنے رب سے ہے، ہمارے لیے دعا اور سفارش کرو کہ یہ عذاب ہمارے سر سے ٹل جائے۔ اگر تم نے اس کو ٹال دیا تو ہم ضرور تمہاری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ جانے دیں گے لیکن جب عذاب ٹل جاتا تو اپنے وعدے سے پھر مکر جاتے۔ تورات میں اس کا ذکر یوں ہے۔ “ ’ تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلا کر کہا کہ خداوند سے شفاعت کرو کہ مینڈکوں کو مجھ سے اور میری رعیت سے دفع کردے اور میں ان لوگوں کو جانے دوں گا تاکہ وہ خداوند کے لیے قربانی کریں ’(خروج باب 8: 28۔ 32) بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ کا مفہو میرے نزدیک یہ ہے کہ چونکہ خدا تمہاری بات سنتا اور تمہاری دعا کی حرمت قائم رکھتا ہے اس وجہ سے ہمارے لیے دعا کرو۔