Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 198

  1. وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ﴿198﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. تَدْعُوْهُمْتم پکارو انہیں
    3. اِلَىطرف
    4. الْهُدٰىہدایت
    5. لَا يَسْمَعُوْانہ سنیں وہ
    6. وَاور
    7. تَرٰىهُمْتو انہیں دیکھتا ہے
    8. يَنْظُرُوْنَوہ تکتے ہیں
    9. اِلَيْكَتیری طرف
    10. وَهُمْحالانکہ
    11. لَا يُبْصِرُوْنَنہیں دیکھتے ہیں وہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو وہ تمہارے بات نہ سنیں گے اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف تاک رہے ہیں لیکن انہیں سوجھتا کچھ بھی نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ۔ اوپر آیت 193 کے مضمون کی وضاحت ہے یہاں لایسمعوا کا لفظ لا یتبعوکم کے صحیح مفہوم پر روشنی ڈال رہا ہے۔ اعجاز بیان کی ایک مثال : وَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ، اس ٹکڑے میں رویت، نظر، اور ابصار کے الفاظ اس خوبی سے استعمال ہوئے ہیں کہ بس قرآن کا اعجاز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بےبصرو، تم تو یہ خیال کر رہے ہو کہ یہ تمہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں سوجھتا سجھاتا کچھ بھی نہیں۔ تراھم میں واحد کا خطاب، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، جمع کے مفہوم میں ہے اور مخاطب مشرکین ہیں۔