Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 23

  1. الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ﴿23﴾

    1. الَّذِيْنَوہ نمازی
    2. هُمْوہ
    3. عَلٰيپر
    4. صَلَاتِهِمْاپنی نمازوں (پر)
    5. دَآئِمُوْنَدوام اختیار کرنے والے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عمل کے اندر روح مداومت سے پیدا ہوتی ہے: ’الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَآئِمُوْنَ‘۔ فرمایا کہ اس مقصد کے لیے انہی نمازیوں کی نماز کارآمد ہے جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں۔ یہ ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کا بھی، مختلف پیرایوں سے ذکر ہوا ہے، جن کا حال یہ ہے کہ یوں تو ان کو کبھی ذکر الٰہی یا سجدہ کی توفیق نہیں ہوتی لیکن ان پر کوئی مصیبت آ جائے تو بڑے نمازی اور بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے والے بن جاتے ہیں۔ پھر جونہی وہ مرحلہ گزر جائے وہ کان جھاڑ کے اس طرح اس سے الگ ہو جاتے ہیں گویا خدا سے نہ کبھی ان کو کوئی سابقہ پڑا ہے اور نہ اب آئندہ کبھی پڑنے والا ہی ہے۔ اس طرح کی نماز چونکہ اسی عدم توازن کا ایک مظہر ہے جس کا یہاں علاج بتایا جا رہا ہے اس وجہ سے یہ نماز ان کی تربیت میں کچھ نافع نہیں ہوتی۔ نافع وہ نماز ہوتی ہے جس کی مداومت کی جائے اور گرم و سرد ہر طرح کے حالات میں اس کی پابندی قائم رہے۔ پابندی کے ساتھ تھوڑا عمل اس عمل سے کہیں زیادہ بابرکت ہے جو اگرچہ مقدار میں زیادہ ہو لیکن وہ محض وقتی اور ہنگامی ہو۔ ایک زور کا دونگڑا برس کر اگر ابر طویل عرصے کے لیے غائب ہو جائے تو فصلیں سوکھ کر تباہ ہو جاتی ہیں، برعکس اس کے تھوڑی بارش بھی جھڑی کی شکل میں قائم و دائم رہے تو وہ کھیتوں کو شاداب رکھتی اور فصلوں کو بارآور کرتی ہے۔ یہی حال نماز کا بھی ہے۔ دین کا جو عام مطالبہ ایک مسلمان سے ہے اگر وہ اسی کو پابندی اور تسلسل کے ساتھ پورا کرے تو اس کے عمل میں جو برکت ہو گی وہ ان لوگوں کے عمل میں نہیں ہو گی جو گاہ گاہ تو بڑے نمازی بن جاتے ہیں لیکن پھر اس طرح بھول جاتے ہیں کہ مسجد کی صورت بھی نہیں دیکھتے۔ حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ کے عمل کو جھڑی سے تشبیہ دی ہے۔ یعنی آپ جو عمل کرتے اس کی مداومت فرماتے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہو۔ عمل کی یہی مداومت اس کے اندر قوت، روح اور زندگی پیدا کرتی ہے۔