تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 24
وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ﴿24﴾
- وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ
- فِيْٓ اَمْوَالِهِمْان کے مالوں میں
- حَقٌّحق ہے
- مَّعْلُوْمٌمعلوم۔ مقرر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ جن کے مالوں میں ایک معین حق ہوتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نماز کے بعد انفاق دین کا دوسرا بازو ہے:
یہ دین کے دوسرے بازو یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں انفاق کا بیان ہے۔ ہم جگہ جگہ یہ واضح کر چکے ہیں کہ دین کے اعمال میں نماز اور انفاق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ نماز بندے کو خدا سے جوڑتی ہے اور انفاق سے اس کا تعلق بنی نوع آدم سے صحیح بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔
’حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ‘ کے الفاظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اس سے زکوٰۃ ہی مراد ہو۔ زکوٰۃ کا سسٹم ایک معین شرح نصاب کے ساتھ تو مدنی دور میں نافذ ہوا اور یہ سورہ مکی ہے، بلکہ اس سے مراد اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کا انفاق محض رسمی طور پر چھدا اتارنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک حق واجب کی حیثیت سے، ایک معلوم مقدار میں، اپنے مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیتے ہیں۔
زمانۂ جاہلیت میں زکوٰۃ کا تصور: یہ امر یہاں واضح رہے کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی لوگ زکوٰۃ اور انفاق سے نا آشنا نہیں تھے۔ سورۂ انعام سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین بھی خدا کا حق اپنے مال میں سے نکالتے تھے لیکن اپنے مشرکانہ مزعومات کے تحت اس میں انھوں نے اپنے معبودوں کو بھی شریک کر رکھا تھا۔ حنیفیت کے پیرو تو خالص موحد تھے اس وجہ سے وہ جو کچھ بھی نکالتے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے حق کی حیثیت سے نکالتے۔ ان کے درمیان حضرت اسماعیل علیہ السلام سے متعلق یہ روایت موجود تھی کہ
’وَکَانَ یَاْمُرْ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ‘ (مریم ۱۹: ۵۵)
(اور وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے)۔
اس وجہ سے یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے اہل عرب انفاق فی سبیل اللہ کی کسی معین شکل سے بالکل نا آشنا تھے۔ مدنی دور میں زکوٰۃ کی جو شرح معین ہوئی وہ اس شرح سے مختلف تو ہو سکتی ہے جو لوگوں میں پہلے رائج رہی ہو لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زمانۂ جاہلیت کے نیکوں کے اندر بھی زکوٰۃ کی ایک معینہ شکل معروف تھی۔ چنانچہ اسی وجہ سے مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ کا لفظ بار بار آیا ہے۔ ملت ابراہیم کی دوسری تعلیمات کی طرح یہ زکوٰۃ بھی بدعات کے حجاب میں گم تھی لیکن اس کا نام باقی تھا۔ اسلام نے اس کو اجاگر اور ازسر نو اس کی کامل صورت میں اسلامی معاشرے کے اندر نافذ کیا۔