Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 25

  1. لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ﴿25﴾

    1. لِّلسَّآئِلِسوالی کے لیے
    2. وَالْمَحْرُوْمِاور محروم کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
مسائلوں اور محروموں کا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’سائل‘ اور محروم: ’لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‘۔ ’سَائِلٌ‘ سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کے آگے دست سوال پھیلاتا ہے۔ اس کا یہ عمل ہی گواہ ہے کہ وہ محتاج ہے اس وجہ سے مدد کا مستحق ہے۔ ایسے سائلوں کے متعلق زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ آدمی جو کچھ دے سکے وہ دے دے، نہ دے سکے تو شائستہ طریق سے معذرت پیش کر دے۔ ان کو جھڑکنا یا ملامت کرنا جائز نہیں ہے۔ قران و حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ یہاں سچے نمازیوں کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ ان کے مال میں سائلوں کا ایک معین حق ہوتا ہے۔ ’مَحْرُوْمٌِ‘ سے مراد تو ظاہر ہے کہ وہ شخص ہے جو وسائل معاش سے محروم ہو لیکن یہاں یہ لفظ چونکہ ’سَائِل‘ کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ وہ محروم ہونے کے باوجود لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنے کا ننگ گوارا نہ کرتا ہو۔ بعض نادار ایسے خوددار ہوتے ہیں جو فاقے کرتے ہیں لیکن سوال کی ذلت گوارا نہیں کرتے۔ خاص طور پر وہ مصیبت زدہ جو پہلے صاحب حیثیت رہے ہوں پھر گردش روزگار کے ہاتھوں نان شبینہ کے محتاج ہو گئے ہوں۔ اس طرح کے خوددار لفظ ’محروم‘ کے اصلی مصداق ہیں۔ ان کی مدد ان کو تلاش کر کے بلکہ ان کے آگے، جیسا کہ بعض آیات سے اشارہ نکلتا ہے، جھک کے کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے کہ ان کی بلند ہمتی کسی کے آگے جھکنا گوارا نہیں کرتی۔ع ہمت نہ خورد نیشتر لا و نعم را