تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 41
عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ﴿41﴾
- عَلٰٓياس بات پر
- اَنْ نُّبَدِّلَکہ ہم بدل دیں
- خَيْرًا مِّنْهُمْبہتران سے
- وَمَا نَحْنُاور نہیں ہم
- بِمَسْبُوْقِيْنَسبقت لیے جانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس بات پر کہ ہم ان کو بدل دیں ان سے بہتر سے اور ہم اس سے عاجز رہنے والے نہیں ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے:
’عَلٰی أَن نُّبَدِّلَ خَیْْرًا مِّنْہُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْنَ‘۔ یعنی ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر مخلوق لائیں جو اللہ کے دین کو ماننے والی ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کو دوبارہ اس سے بہتر صورت میں پیدا کر دیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم اس سے بہتر صورت میں پیدا کر دینے پر بھی قادر ہیں تو بعینہٖ انہی کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ہمارے لیے اور بھی آسان ہے۔ عام طور پر لوگوں نے پہلے مطلب ہی کو اختیار کیا ہے اور زبان کے پہلو سے اس میں کوئی خرابی بھی نہیں ہے لیکن میرا رجحان دوسرے مطلب کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورہ میں اصل زیربحث موضوع وقوع قیامت ہے جس کو مستبعد سمجھنے کی بڑی وجہ منکرین کے لیے یہی تھی کہ مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو وہ خارج از امکان قرار دیتے تھے۔ آگے کی آیات سے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔