Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 44

  1. خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ع﴿44﴾

    1. خَاشِعَةًدبی ہوئی ہوں گی۔ جھکی ہوئی ہوں گی
    2. اَبْصَارُهُمْان کی نگاہیں
    3. تَرْهَقُهُمْچھا رہی ہوں گی ان پر
    4. ذِلَّةٌذلت
    5. ذٰلِكَیہ ہے
    6. الْيَوْمُدن
    7. الَّذِيْجو
    8. كَانُوْاوہ تھے
    9. يُوْعَدُوْنَوعدہ کیے گئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ یہ ہے وہ دن جس سے وہ ڈرائے جاتے رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی آج تو اللہ کا رسول اس دن سے ان کو ڈراتا ہے تو اس کا منہ نوچنے کو دوڑتے ہیں لیکن جب قیامت کا داعی ان کو پکارے گا تو یہ اس کی طرف اس طرح لپکیں گے کہ خوف سے ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔۔۔ فرمایا کہ یہ وہ دن ہو گا جس کی ان کو وعید سنائی جاتی رہی ہے۔ یہاں اس سوال کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جو پہلی آیت میں ’سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ‘ کے الفاظ سے نقل ہوا ہے۔ اس کے ضروری پہلوؤں پر بحث اور اس کی تصویر کے بعد یہ آخری آیت میں اس کا جواب دے دیا کہ یہ ہے وہ عذاب کا دن جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا لیکن وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس طرح شروع سے آخر تک تمام کلام مربوط ہو گیا۔