Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 71. Nooh · Ayah 13

  1. مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ﴿13﴾

    1. مَا لَكُمْکیا ہے تم کو
    2. لَا تَرْجُوْنَنہیں تم امید رکھتے
    3. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    4. وَقَارًاکس وقار کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خدا کی عظمت کے ظہور کے متوقع نہیں ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ قوم کے ہٹ دھرموں کی بلادت پر اظہار تعجب ہے کہ میں جو تمہیں اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کر استغفار کی دعوت دے رہا ہوں تو آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کانوں میں تیل ڈالے پڑے ہو اور میری سنی ان سنی کیے دے رہے ہو! کیا تم سمجھتے ہو کہ تم اسی طرح اپنی دلچسپیوں میں مگن رہو گے اور جس رب نے تمہیں یہ سب کچھ دے رکھا ہے اس کا جلال، تمہاری بدمستیوں کے باوجود کبھی ظہور میں نہیں آئے گا! مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری نگاہوں میں اس کی عظمت و جلالت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ تم اس کو العیاذ باللہ بالکل بے حس، بے حمیت اور بے بس خیال کیے بیٹھے ہو کہ اس کی دنیا میں جو دھاندلی چاہو مچاتے پھرو لیکن اس کی غیرت و حمیت کبھی جوش میں نہیں آئے گی۔ بعینہٖ یہی مضمون ’مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ (الانفطار ۸۲: ۶) (اے انسان! تجھ کو تیرے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے) والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ یعنی انسان جب اپنے دائیں بائیں نعمتوں کے انبار دیکھتا ہے اور یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے لیکن اس کی پکڑ نہیں ہو رہی ہے تو وہ آہستہ آہستہ ڈھیٹ ہو کر خدا کی پکڑ سے بالکل نچنت ہو جاتا ہے۔ حالانکہ وہ سونچتا تو آسانی سے سمجھ سکتا تھا کہ خدا نے اس کے لیے اپنی کریمی کی یہ شانیں دکھائی ہیں تو اس لیے نہیں دکھائی ہیں کہ وہ اس کی دنیا میں دھاندلی مچائے بلکہ ان نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار اور اس امر کا منتظر رہے کہ ایک دن ان نعمتوں کے باب میں اس سے پرسش ہونی ہے اور اس دن ناشکروں اور نافرمانوں کو اس کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ ’تَرْجُوْنَ‘ کے معنی یہاں منتظر اور متوقع رہنے کے اور ’وقار‘ کے معنی عظمت، شان اور جلال کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ میں جمال کی صفات کے ساتھ جلال کی صفات بھی ہیں جو ان لوگوں کے لیے ظاہر ہوتی ہیں جو اس کے رسولوں کی نافرمانی کرتے اور اس کے آگے اکڑتے ہیں۔ صراط مستقیم پر استوار رہنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان ان دونوں ہی قسموں کی صفات کی یادداشت تازہ رکھے۔ اگر ان میں عدم توازن پیدا ہو جائے تو آدمی کا ذہن صفات الٰہی کے باب میں غیر متوازن ہو جاتا ہے جس سے اس کی ساری زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہاں خطاب چونکہ سرکشوں سے ہے اس وجہ سے صرف صفت جلال ہی کا حوالہ دیا ہے۔