تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 13
وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ﴿13﴾
- وَّاَنَّااور یہ کہ
- لَمَّاجب
- سَمِعْنَاہم نے سنی
- الْهُدٰٓىہدایت
- اٰمَنَّاہم ایمان لے آئے
- بِهٖ ۭاس پر
- فَمَنْ يُّؤْمِنْۢسو جو ایمان لائے
- بِرَبِّهٖاپنے رب پر
- فَلَا يَخَافُتو اسے خوف نہ ہوگا
- بَخْسًاکسی نقصان
- وَّلَا رَهَقًااور نہ کسی ظلم
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کی بات سنی ہم اس پر ایمان لائے۔ پس جو اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا نہ کسی زیادتی کا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی:
یہ قوم کے سامنے انھوں نے اپنی مثال پیش کی ہے کہ جب یہ ہدایت بخش دعوت ہمارے کانوں میں پڑی تو ہم نے اپنے اوپر یہ واجب سمجھا کہ اس کی قدر کریں چنانچہ ہم اس پر ایمان لائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہی روش ان تمام لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے جن کے اندر حق و ہدایت کے لیے احترام موجود ہے جو لوگ اس سے بھاگیں گے ان کا اعراض گواہی دے گا کہ وہ اپنی عقل کے بجائے اپنی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔
’فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَہَقًا‘۔ ’بَخْسٌ‘ کے معنی کمی کرنے اور ’رَہَقٌ‘ کے معنی، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی ہے، زیادتی کرنے کے ہیں۔ یہی مضمون معمولی تغیر کے ساتھ ’فَلَا یَخَافُ ظُلْمًا وَلَا ہَضْمًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۱۲) کے الفاظ میں بھی ادا ہوا ہے۔
یہ انھوں نے دعوت ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں گے وہ اطمینان رکھیں کہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کا بھرپور صلہ دے گا، نہ ان کو کسی حق تلفی کا اندیشہ ہو گا نہ کسی تعدی کا۔ جو کچھ جس نے کیا ہو گا وہی اس کے سامنے آئے گا۔ ’فَمَنۡ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْرًا یَرَہٗ ۵ وَمَنۡ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ‘ (الزلزال ۹۹: ۷-۸)