تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 16
وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ﴿16﴾
- وَّاَنْاور یہ کہ
- لَّوِاگر
- اسْتَقَامُوْاوہ قائم رہتے
- عَلَي الطَّرِيْقَةِ(سیدھے) راستہ پر
- لَاَسْقَيْنٰهُمْتو البتہ ہم انہیں پلاتے
- مَّآءًپانی
- غَدَقًاوافر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور مجھے وحی آئی ہے کہ اگر یہ قریش سیدھی راہ پر گامزن رہتے تو ہم ان کو خوب خوب سیر اب کرتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف:
جنوں کے تاثرات و اقوال کا حوالہ دینے کے بعد یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ گیا۔ پہلی آیت میں لفظ ’قُلْ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ قرآن اور اس کی دعوت کے متعلق جنوں کی یہ باتیں آپ قریش کے ناقدروں اور مغروروں کو پہنچا دیں۔ اس کے بعد اب براہ راست قریش کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ صراط مستقیم پر استوار رہتے تو یہ خسارے کا سودا نہیں تھا بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی راہ یہی ہے۔ ہم اس کے صلے میں ان پر اپنی رحمت کی گھٹائیں برساتے۔
’مَآءٌ غَدَقٌ‘ کے لغوی معنی تو وافر پانی کے ہیں لیکن عربی میں یہ تعبیر ہے رزق و فضل کے بہتات کی۔ اس کی مثالیں پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہیں۔ سابق سورہ میں فرمایا ہے:
اِسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ۵ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْْکُمۡ مِّدْرَارًا ۵ وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ وَیَجْعَل لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَل لَّکُمْ أَنْہَارًا (نوح ۷۱: ۱-۱۲)
’’اپنے رب سے مغفرت مانگو۔ وہ نہایت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر اپنے ابرکرم کے دونگڑے برسائے گا اور مال و اولاد سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تمہارے لیے باغ بھی پیدا کرے گا اور نہریں بھی جاری کرے گا۔‘‘
یہ قریش کے اس وہم کا ازالہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خوش حالی کو اپنے بتوں کا فیض سمجھتے اور ڈرتے ہیں کہ اگر قرآن کی دعوت انھوں نے قبول کر لی تو مال و اولاد کی جس فراوانی سے وہ بہرہ مند ہیں اس سے محروم ہو جائیں گے۔ فرمایا کہ یہ ان کی نادانی ہے کہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو انھوں نے اپنے فرضی دیوتاؤں سے منسوب کر رکھا ہے۔ یہ نعمتیں سب اللہ کی عنایت کردہ ہیں اور اس نے ان کی ناشکریوں کے باوجود جب ان سے ان کو بہرہ مند کیا تو شکرگزاری کی روش اختیار کرنے کے بعد بدرجۂ اولیٰ نہ صرف ان کو باقی رکھے گا بلکہ اس میں افزونی فرمائے گا۔
توحید کی راہ ایک جانی پہچانی راہ ہے: ’عَلَی الطَّرِیْقَۃِ‘ سے مراد توحید کی صراط مستقیم ہے۔ اس کا ذکر اس طرح فرمایا ہے کہ گویا یہ ایک جانی پہچانی راہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اس لیے کہ انسان کی فطرت اس کی گواہ ہے۔ عقل اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے، آفاق و انفس اس کی گواہی دے رہے اور اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں نے اسی راہ کی دعوت دی ہے۔