Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 17

  1. لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ﴿17﴾

    1. لِّنَفْتِنَهُمْتاکہ ہم انہیں آزمائیں
    2. فِيْهِ ۭاس میں
    3. وَمَنْاور جو
    4. يُّعْرِضْروگردانی کریگا
    5. عَنْ ذِكْرِیاد سے
    6. رَبِّهٖاپنے رب کی
    7. يَسْلُكْهُوہ اسے داخل کریگا
    8. عَذَابًاعذاب
    9. صَعَدًاسخت
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ ہم اس میں ان کو آزمائیں اور جو اپنے رب کی یاددہانی سے منہ موڑیں گے تو وہ ان کو چڑھتے عذاب میں داخل کرے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک برسر موقع تنبیہ: یہ برسر موقع ایک تنبیہ ہے کہ اس دنیا میں ہم رزق و فضل سے کسی کو جو بہرہ مند کرتے ہیں تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ وہ خدا کا منظور نظر ہے بلکہ اس سے مقصود اس کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں پا کر اس کا شکرگزار اور فرماں بردار رہتا ہے یا ناشکرا اور مغرور و متکبر بن جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کے یہ مغرور لیڈر اس واضح حقیقت کو فراموش کر بیٹھے۔ انھوں نے ان نعمتوں کو اپنا موروثی حق جانا اور اس غرور کے نشہ میں انھوں نے اس یاددہانی سے منہ موڑا جو اللہ نے ان کو راہ راست دکھانے کے لیے نازل فرمائی۔ ’وَمَنْ یُعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا‘۔ یہ اسی کے ساتھ کی دوسری تنبیہ ہے کہ اس دنیا کے غرور میں مبتلا ہو کر جو لوگ اپنے رب کی یاددہانی سے منہ موڑیں گے وہ یاد رکھیں کہ اللہ ان کو ایک ایسے عذاب میں داخل کرے گا جو برابر ترقی ہی کرتا رہے گا۔ ’ذِکْرٌ‘ سے مراد یہاں قرآن ہے جس کی ناقدری پر قریش کو اوپر کی آیات میں ملامت کی گئی ہے۔ یہ لفظ قرآن کے لیے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ ’عَذَابًا صَعَدًا‘ کے معنی لوگوں نے عام طور پر، ’عذاب شدید‘ کے لیے ہیں لیکن لفظ ’صَعَدٌ‘ کا اصل مفہوم ترقی کرنا ہے۔ اس وجہ سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس میں اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اپنی کتاب کی تکذیب کی پاداش میں جن کو پکڑتا ہے ان کی سزا وقتی اور ہنگامی نہیں ہوتی بلکہ اس میں برابر ترقی ہی ہوتی رہتی ہے۔ اس دنیا میں جس عذاب سے وہ دوچار ہوتے ہیں اس سے بڑے عذاب سے ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا اور پھر آگے ان کے عذاب کی شدت میں ترقی ہی ہوتی رہے گی۔ اس کے ختم یا اس میں بالتدریج کمی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔