تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 28
لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ع﴿28﴾
- لِّيَعْلَمَتاکہ وہ معلوم کرلے
- اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْاکہ انہوں نے تحقیق پہنچادئیے
- رِسٰلٰتِپیغام (جمع)
- رَبِّهِمْاپنے رب کے
- وَاَحَاطَاور اس نے احاطہ کیا ہوا ہے
- بِمَا لَدَيْهِمْجو ان کے پاس
- وَاَحْصٰىاور اس نے شمار کر رکھی ہے
- كُلَّ شَيْءٍہر شے
- عَدَدًاگنتی میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ دیکھے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے اور وہ ان کے گرد و پیش کا احاطہ کیے اور ہر چیز کو شمار میں رکھے ہوتا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’یَعْلَم‘ یہاں اسی مفہوم میں آیا ہے جس مفہوم میں ’حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنۡکُمْ‘ (محمد ۴۷: ۳۱) اور اس مفہوم کی دوسری آیتوں میں آیا ہے۔ اسی مفہوم میں ’لِنَنْظُرَ کَیْْفَ تَعْمَلُوْنَ‘ (یونس ۱۰: ۱۴) میں لفظ ’نَنْظُرَ‘ بھی آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یوں تو جانتا سب کچھ ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ جس کے باطن میں جو کچھ ہے وہ باہر آئے اور وہ اچھی طرح اس کا امتحان کر لے۔
’وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْْہِمْ وَأَحْصٰی کُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا‘۔ یعنی وہ رسول کی تحویل میں جو امانت اپنے دین اور اپنی وحی کی دیتا ہے اس کو پوری طرح اپنی نگرانی میں رکھتا ہے۔ ایک ایک چیز کو گنے ہوئے ہوتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے شمار سے رہ جائے۔