Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 6

  1. اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ﴿6﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. نَاشِئَةَاٹھنا
    3. الَّيْلِرات
    4. هِيَیہ
    5. اَشَدُّسخت (نفس کو)
    6. وَطْاًروندنے والا
    7. وَّاَقْوَمُاور زیادہ درست
    8. قِيْلًاالفاظ کے تلفظ میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک رات میں اٹھنا دل جمعی اور فہم کلام کے لئے نہایت خوب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیام لیل کی حکمت: یہ اللہ تعالیٰ نے حکمت بتائی ہے اس بات کی کہ آپ کو قیام لیل کا یہ حکم کیوں دیا گیا۔ فرمایا کہ اس لیے کہ یہ وقت سکون قلب و دماغ کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور فہم قرآن کے لیے سب سے زیادہ سازگار و مددگار ہے۔ ’نَاشِئَۃٌ‘ ہمارے نزدیک ’نشأ‘ سے، جس کے معنی اٹھنے کے ہیں ’عَاقِبَۃٌ‘ اور ’عَافِیَۃٌ‘ کے وزن پر مصدر یا حاصل مصدر ہے۔ ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے معنی ہوں گے قیام لیل یا شب خیزی۔ اس لفظ ہی سے یہ بات نکلی کہ تہجد کا وقت درحقیقت شب میں کچھ سو کر اٹھنے کے بعد یعنی پچھلے پہر کا ہے۔ اس وقت اٹھنا اگرچہ اس اعتبار سے ایک مشکل کام ہے کہ اس وقت کی نیند بہت محبوب ہوتی ہے لیکن اس امتحان میں انسان اگر کامیاب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی کتاب کے سمجھنے کے لیے اس سے زیادہ بابرکت وقت اور کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو اس ساعت میمون میں بستر سے اٹھنے کی توفیق دیتا ہے اول تو اس کو اپنے نفس کی خواہشوں پر غلبہ پانے کی ایسی قوت حاصل ہو جاتی ہے جو اس کے لیے اصلاح نفس کی راہ میں فتوحات کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے ثانیاً اللہ تعالیٰ نے، جو رات اور دن کو وجود میں لانے والا ہے، اس وقت کو اپنی رحمتوں کے نزول کے لیے مخصوص فرمایا ہے جن کے دروازے اس کے ان بندوں کے لیے کھلتے ہیں جو اس کی قدر و قیمت پہچانتے اور اس وقت اس کے دروازے پر سائل بن کر حاضر ہوتے ہیں۔ شب خیزی کی تاثیر ’اَشَدُّ وَطْاً‘ یہ اس وقت اٹھنے کی تاثیر بتائی ہے کہ جب آدمی اس وقت بستر سے اٹھ کر، وضو کر کے، نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے قدم خوب جمتے ہیں۔ قدم خوب جمنا دماغ کی یکسوئی، دل کے اطمینان اور عقل کی بیداری کی تعبیر ہے۔ اگر دماغ پریشان اور قلب بے سکون ہو تو آدمی کے قدم نہیں جمتے، کوئی بڑا کام تو درکنار وہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی دلجمعی سے نہیں کرسکتا۔ گویا یہاں ظاہر سے ان کے باطن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے اس کے یہ معنی لیے ہیں کہ اس وقت اٹھنا نفس کو اچھی طرح کچلنے والا ہے۔ اگرچہ الفاظ میں اس معنی کی بھی گنجائش ہے لیکن آگے کے فقرے سے اسے مناسبت نہیں ہے۔ میں نے جو معنی اختیار کیے ہیں وہ دوسرے مفسرین نے بھی لیے ہیں لیکن انھوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ ثبات قدم درحقیقت قلبی و عقلی یکسوئی و دلجمعی کی تعبیر ہے۔ ’وَّاَقْوَمُ قِیْلًا‘ یعنی یہ وقت چونکہ دماغ کے سکون اور دل کی بیداری کا خاص وقت ہے اس وجہ سے زبان سے جو بات نکلتی ہے تیربہدف اور ’ازدل خیزد بردل ریزد‘ کا مصداق بن کر نکلتی ہے۔ آدمی خود بھی اس کو اپنے دل کی گواہی کی طرح قبول کرتا ہے اور دوسرے سننے والوں کے دلوں پر بھی اس کی تاثیر بے خطا ہوتی ہے۔ جنات کا جو واقعہ سورۂ جن میں بیان ہوا ہے روایات اور قرائن دونوں سے ثابت ہے کہ انھوں نے تہجد ہی میں حضور ﷺ کو قرآن پڑھتے سنا اور اس درجہ متاثر ہوئے کہ نہ صرف اس پر ایمان لائے بلکہ اپنی قوم کے اندر اس کے داعی بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عمر ؓ جیسے عظیم انسان کے دل کو بھی اسی طرح کے ایک واقعہ نے فتح کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تہجد میں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق تلاوت قرآن صرف اپنے ہی نفس کے تہذیب و تزکیہ کے لیے نہیں بلکہ بعض اوقات دوسروں کے ارواح و قلوب کو زندہ کر دینے کے لیے بھی ندائے غیب کی حیثیت رکھتی ہے خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔