Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 7

  1. اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ﴿7﴾

    1. اِنَّ لَكَبیشک آپ کیلئے
    2. فِي النَّهَارِدن میں
    3. سَبْحًاشغل
    4. طَوِيْلًاطویل
Translation · Tadabbur-e-Quran
دن میں بھی تمہارے لیے کافی تسبیح کا موقع ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’سبح طویل‘ کی تاویل: عام طور پر لوگوں نے اس کے معنی یہ لیے ہیں کہ دن میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے کام ہیں یعنی دن میں چونکہ دوسرے بہت سے دھندے گھیرے رہتے ہیں، نماز کے لیے دلجمعی کا وقت مشکل ہی سے میسر آتا ہے، اس وجہ سے شب میں تم کو تہجد کے اہتمام کا حکم دیا گیا۔ لفظ ’سبح‘ کے اندر، ازروئے لغت، اس معنی کی گنجائش موجود ہے لیکن ہمارا دل مختلف وجوہ سے اس تاویل پر نہیں جمتا۔ اول وجہ یہ ہے کہ قیام لیل کے لیے پچھلے پہر کا وقت اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے نہیں منتخب فرمایا ہے کہ دن میں آدمی کے سامنے دوسری بہت سی مشغولیتیں ہیں بلکہ قرآن کے متعدد اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ شب و روز کے چوبیس گھنٹوں میں اپنے مزاج و کیفیات کے اعتبار سے یہی وقت ان مقاصد کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے جو قیام شب سے مقصود ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر یہ بات کہنی ہوتی تو اس کے لیے سادہ اسلوب بیان یہ ہوتا کہ ’اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ شَغْلًا کَثِیْرًا‘ یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ ہوتے۔ لفظ ’سبح‘ تیرنے، چلنے وغیرہ کے معنی میں آتا تو ہے لیکن شغل اور مصروفیت کے معنی میں یہ ایسا معروف نہیں ہے کہ بغیر واضح قرینہ کے ذہن اس کی طرف منتقل ہو سکے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اگر لفظ ’سبح‘ یہاں اس معنی میں ہوتا تو اس کی صفت ’طَوِیْلًا‘ کی جگہ ’کَثِیْرًا‘ یا ’کَبِیْرًا‘ زیادہ موزوں ہوتی۔ ان مختلف وجوہ سے اس تاویل پر دل پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک لفظ ’تسبیح‘ یہاں اپنے معروف معنی یعنی تسبیح کرنے ہی کے معنی میں ہے اور آیت کی تاویل یہ ہے کہ شب میں تمہیں جس اہتمام نماز کا حکم دیا جا رہا ہے اس کے علاوہ دن میں بھی تمہارے لیے کافی تسبیح کا موقع ہے جس کا اہتمام رکھو۔ چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ حضورؐ دن میں بھی اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے اور سوتے جاگتے اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے آپ سے دعائیں منقول ہیں۔ آدمی ان کا اہتمام رکھے تو اس کا کوئی قدم بھی ذکر کے بغیر نہیں اٹھ سکتا اور ان کی برکت سے آدمی کے وہ کام بھی عبادت بن جاتے ہیں جو بظاہر دنیا کے کام خیال کیے جاتے ہیں۔ دین میں مطلوب ذکر دوام ہے: یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ دین میں مطلوب ذکر دوام ہے۔ اس مسئلہ پر اس کے مقام میں بحث ہو چکی ہے۔ جس طرح انسان کی مادی زندگی کے لیے سانس ضروری ہے اسی طرح اس کی روحانی زندگی کے لیے اللہ کی یاد ضروری ہے۔ سانس رک جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ سے غفلت ہو جائے تو روح پژمردہ ہو جاتی ہے۔ دل ذکر کی جھڑی ہی سے زندہ رہتا ہے اور دل کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔ آیات آفاق و انفس میں تفکر بھی ذکر ہے: یہاں وہ حقیقت بھی پیش نظر رہے جو اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں بیان ہو چکی ہے کہ اللہ کے دین کی دعوت اور آیات آفاق و انفس میں تدبر و تفکر بھی ذکر ہی میں شامل ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی مبالغہ نہیں ہے کہ اس کو افضل الذکر کی حیثیت حاصل ہے اس لیے کہ اس تفکر ہی سے درحقیقت ذکر کے اندر حقیقی معنویت پیدا ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو ذکر محض ورزش زبان بن کے رہ جاتا ہے۔ زندگی پر اس کا کوئی مفید اثر مرتب نہیں ہوتا۔ اس مسئلہ پر ’الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ (آل عمران ۳: ۱۹۱) کے تحت بحث گزر چکی ہے۔