تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 8
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ﴿8﴾
- وَاذْكُرِاور آپ یاد کریں
- اسْمَنام
- رَبِّكَاپنارب
- وَتَبَتَّلْاور چھوٹ جائیں
- اِلَيْهِاس کی طرف
- تَبْتِيْلًا(سب سے) چھوٹ کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اپنے رب کے نام کا ذکر کر اور اس کی طرف گوشتہ گیر ہوجا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہونے کا طریقہ:
’تَبَتُّلٌ‘ اور ’تَبْتِیْلٌ‘ دونوں کے معنی انقطاع الی اللہ کے ہیں یعنی خلق سے کٹ کر رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہو جانا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طریقہ بتایا اس بات کا کہ جب جب لوگوں کی حق بیزاری اور دل آزاری سے دل آزردہ ہو تو تم ان ناقدروں سے کٹ کر اپنے رب کے دامن رحمت میں پناہ گیر ہو جایا کرو اور اس کے لیے تمہیں اس کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ تم اس کے نام کو یاد کرو۔ جب تم اس کے نام کے ساتھ اس کو یاد کرو گے تو وہ خود تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گا۔
صفات الٰہی کا استحضار: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اس کی صفات کی تعبیر ہیں اور ان کی صفات ہی پر تمام دین و شریعت اور سارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد ہے۔ ان صفات کا صحیح علم مستحضر رہے تو آدمی کی پشت پر ایک ایسا لشکر گراں اس کے محافظ کی حیثیت سے موجود رہتا ہے کہ شیطان کی ساری فوجیں اس کی نگاہوں میں پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتیں۔ وہ اپنے آپ کو پہاڑوں سے بھی زیادہ مستحکم محسوس کرتا ہے۔ اور اگر خدا کی صفات کی صحیح یادداشت اس کے اندر باقی نہ رہے یا کمزور ہو جائے تو پھر اس کا عقیدہ بے بنیاد یا کمزور ہو جاتا ہے جس کے سبب سے اس کو منافقین کی طرح ہر بجلی اپنے ہی خرمن پر گرتی نظر آتی ہے۔