Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 43

  1. قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ﴿43﴾

    1. قَالُوْاوہ کہیں گے
    2. لَمْ نَكُنہ تھے ہم
    3. مِنَسے
    4. الْمُصَلِّيْنَنماز پڑھنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ جواب دیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اہل دوزخ کا اعتراف: اہل دوزخ ان کے جواب میں اعتراف کر لیں گے کہ ہمارے اعمال ہی ہمیں یہاں لانے والے بنے ہیں۔ قصور سارا ہمارا اپنا ہی ہے، کسی دوسرے کا نہیں ہے۔ سب سے پہلے وہ اس جرم کا اعتراف کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دین کے عقائد میں جس طرح توحید کو سب پر تقدم حاصل ہے اسی طرح اعمال میں نماز کو سب پر تقدم حاصل ہے۔ ہر نبی نے سب سے پہلے اسی عمل کی دعوت دی ہے اور اسی کے اہتمام اور اسی کے ترک پر دین کو منحصر بتایا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے عدم انفاق کا اعتراف کریں گے کہ وہ مسکینوں کو کھلانے کے روادار نہ تھے۔ اعمال میں نماز کے بعد دوسرا درجہ انفاق کا ہے اور انہی دونوں پر تمام اعمال صالحہ کی عمارت قائم ہے۔ ہم جگہ جگہ اس حقیقت کی وضاحت کر چکے ہیں کہ نماز بندے کا تعلق خالق سے استوار کرتی ہے اور زکوٰۃ (انفاق) اس کو خلق سے جوڑتی ہے اور انہی دو کی استواری ہی پر آدمی کے دین کی استواری کا انحصار ہے۔ اس کے بعد وہ اس امر کا اعتراف کریں گے کہ قیامت اور جزا و سزا کے باب میں جس طرح کی نکتہ چینیاں اور موشگافیاں دوسرے کرتے تھے اسی طرح کی موشگافیاں کرنے والوں میں وہ بھی رہے ہیں اور انہی موشگافیوں کی آڑ لے کر انھوں نے جزا و سزا کے دن کو جھٹلایا یہاں تک کہ موت آ گئی اور اس نے ان تمام چیزوں کا یقین دلا دیا جن کے بارے میں وہ شکوک پیدا کرتے رہے تھے۔