تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 48
فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ﴿48﴾
- فَمَا تَنْفَعُهُمْاور انہیں نفع نہ دیا
- شَفَاعَةُسفارش
- الشّٰفِعِيْنَسفارش کرنے والوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ان کو شفاعت کرنیوالوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مشرکین کی مزعومہ شفاعت کی نفی:
یہ ان کے مزعومہ شفعاء اور ان کی مفروضہ شفاعت کی نفی فرمائی ہے کہ نہ وہاں ان کے مزعومہ شفعاء ہوں گے اور نہ ان کی شفاعت۔
یہاں کلام، عربیت کے اسلوب پر ہے جس کو ’نفی الشئ ینفی لازمہٖ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں۔ امراء القیس نے ایک صحرائی راستہ کی تعریف میں کہا ہے کہ ’لا یُھتدٰی بمنارہٖ‘ اس کے منارہ سے رہنمائی نہیں حاصل کی جاتی۔ اس کا مطلب ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس میں منارے ہیں ہی نہیں کہ ان سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ مشرکین کو اپنے جن شفعاء پر ناز تھا ان کے متعلق قرآن نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ
’إِنْ ہِیَ إِلَّا أَسْمَآءٌ سَمَّیْْتُمُوۡہَا أَنۡتُمْ وَآبَاؤُکُم مَّآ أَنۡزَلَ اللہُ بِہَا مِنۡ سُلْطَانٍ إِنۡ یَتَّبِعُوۡنَ إِلَّا الظَّنَّ‘ (النجم ۵۳: ۲۳)
(یہ تو محض فرضی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں، ان کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں)۔