Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 16

  1. لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ﴿16﴾

    1. لَا تُحَرِّكْآپ حرکت نہ دیں
    2. بِهٖاس (قرآن) کے ساتھ
    3. لِسَانَكَاپنی زبان کو
    4. لِتَعْجَلَکہ جلد (یاد کرلیں)
    5. بِهٖاس کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس کو جلدی سیکھ لینے کے لئے اس کے پڑھنے پر اپنی زبان کو جلدی نہ چلائو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیات کا پس منظر: یہ نبی ﷺ کو مخالفین کی جلد بازیوں اور ان کے نت نئے مطالبات کے مقابل میں صبر و انتظار کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر انذار عام کی جو بھاری ذمہ داری ڈالی تھی اس سے صحیح طور پر عہدہ برآ ہونے کے لیے آپ کے پاس واحد سہارا وحئ الٰہی ہی کا سہارا تھا۔ آپ کی مثال محاذ پر مامور سپاہی کی تھی اور آپ کوئی بھی قدم اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ مخالفین آپ کو زچ کرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات و مطالبات پیش کر کے آپ کو پسپا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے۔ اوپر ان کا ایک مطالبہ مذکور ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جس قیامت سے ڈرا رہے ہو وہ کہاں ہے؟ اگر اس کا آنا قطعی ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی! اسی طرح قرآن میں ان کا یہ مطالبہ بھی مذکور ہوا ہے کہ اگر قرآن اللہ کا کلام ہے تو وہ پورا کا پورا بیک دفعہ کیوں نہیں نازل ہو جاتا۔ غرض ہر طرف سے آپ پر نئے نئے اعتراضات و سوالات کی بارش تھی اور ہر سوال کے اطمینان بخش جواب کے لیے آپ کو برابر وحئ الٰہی کا انتظار رہتا۔ اسی سے آپ کے قلب کو قوت، آپ کی روح کو حیات تازہ، عقل کو رہنمائی اور ارادے کو ثبات و استحکام حاصل ہوتا۔ چنانچہ قرآن اور احادیث دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی حکمت الٰہی کے تحت وحی کے نزول اور جبریل امینؑ کی آمد میں کچھ زیادہ وقفہ ہو جاتا تو آپ کی نگاہیں باربار آسمان کی طرف اٹھ جاتیں۔ اسی شوق و اضطراب کا اظہار آپ سے اس وقت بھی ہوتا جب جبریل امینؑ آپ پر وحی القاء فرماتے۔ آپ ایک پرشوق طالب کی طرح چاہتے کہ جلد سے جلد ساری وحی سن لیں اور اس کو اچھی طرح محفوظ بھی کر لیں کہ مبادا اس ابر نیساں کا کوئی قطرہ ضائع ہو جائے۔ اس تمہید کو ذہن میں رکھ کر اب آیات پر غور فرمائیے۔ نزول وحی کے وقت آنحضرت کے شوق و اضطراب کی کیفیت: ’لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ‘۔ یہ نبی ﷺ کو اس عجلت و بے قراری سے روکا گیا ہے جو آپ پر اس وقت طاری ہوتی جب وحی آتی۔ اگرچہ شوق و عجلت کا مضمون ادب کے پامال مضامین میں سے ہے لیکن اس عجلت و بے قراری کی تعبیر کون کر سکتا ہے جو نبی ﷺ پر اس وقت طاری ہوتی ہو گی جب ایک طویل وقفہ کے انتظار کے بعد اور مخالفین کی ژاژ خائیوں کے طوفان کے اندر حضرت جبریل امینؑ اللہ تعالیٰ کے نامہ و پیام کے ساتھ نمودار ہوتے رہے ہوں گے۔ ایک بچہ بھوکا ہو اور ماں اس کو چھاتی سے لگائے تو وہ چاہتا ہے کہ ماں کی چھاتی کا سارا دودھ ایک ہی سانس میں سڑپ لے۔ صحرا کا مسافر پیاس سے تڑپ رہا ہو اور طویل انتظار کے بعد اس کو پانی کا ڈول مل جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ پورا ڈول ایک ہی دفعہ میں انڈیل لینا چاہتا ہے۔ ایک فراق زدہ کو جدائی کی کٹھن گھڑیاں گزارنے کے بعد نامۂ محبوب مل جائے تو وہ چاہے گا کہ ایک ہی نظر میں اس کا ایک ایک حرف پڑھ ڈالے۔ اگرچہ یہ مثالیں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ناقص ہیں، تاہم ان سے کچھ اندازہ اس شوق، اس عجلت اور اس اضطراب کا کیا جا سکتا ہے جن کا اظہار آپ کی طرف سے بے اختیارانہ اس وقت ہوتا رہا ہو گا جب آپ وحی سے مشرف ہوتے رہے ہوں گے۔ اس کا سبب کوئی ایک نہیں تھا بلکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، متعدد تھے۔ مثلاً o یہ کہ آپ جس فریضۂ منصبی پر مامور تھے اس کا سارا پروگرام اسی سے معلوم ہوتا تھا۔ o آپ کی عقلی، ایمانی اور روحانی زندگی کا تمام تر انحصار اسی پر تھا۔ o حاضر اور مستقبل کے حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے رہنمائی اسی سے ملتی تھی۔ o دشمنوں کے نت نئے اعتراضات و مطالبات کے فیصلہ کن جوابات اسی کے ذریعہ حاصل ہوتے تھے۔ o علم کا غیر معمولی شوق اور اس کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری کا صحیح احساس بھی اس کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔ ان میں سے ہر محرک ایک پاکیزہ محرک ہے لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہی تھا کہ قرآن جس تدریج سے نازل ہو رہا ہے اسی طرح نازل ہو۔ چنانچہ آپ کو باربار اسی معاملے میں صبر و انتظار کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیات ۱۱۴-۱۱۵ میں بھی آپ کو اسی طرح کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ وہاں ہم اس کے بعض خاص پہلوؤں کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ یہاں بھی اصلاً اسی بات کا ذکر ہے لیکن موقع و محل کے تقاضے سے آپ کو یہ اطمینان بھی، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہو رہا ہے، یہاں دلا دیا گیا کہ آپ قرآن کی حفاظت و صیانت کی طرف سے بالکل مطمئن رہیں۔ اس کے جمع و ترتیب، اس کو سنانے، یاد کرانے اور اس کے محتاج وضاحت مقامات کی وضاحت کی ذمہ داری اللہ نے اپنے اوپر لے رکھی ہے۔ جتنا جتنا قرآن اترتا جائے اس پر آپ قناعت کریں۔ نہ اس کے اتارے جانے کے لیے کسی عجلت و اضطراب کا اظہار کریں، نہ اس کی حفاظت کے باب میں کسی تشویش میں مبتلا ہوں۔ ان باتوں کو اپنے رب پر چھوڑیں۔ ہر کام اپنے صحیح وقت پر، ٹھیک ٹھیک اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے مطابق ہو گا۔