Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 17

  1. اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ﴿17﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. عَلَيْنَاہم پر (ہمارے ذمے)
    3. جَمْعَهٗاس کا جمع کرنا
    4. وَقُرْاٰنَه ٗاور اس کا پڑھنا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہمارے ذمہ ہے اس کو جمع کرنا اور اس کو سنانا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ‘۔ یہ حضور ﷺ کی اس تشویش کو رفع فرمایا ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ چونکہ ایک عظیم آسمانی خزانہ آپ کی تحویل میں دیا جا رہا تھا اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کو اپنی امانت میں لیتے ہوئے آپ ایک ایک لفظ کو اس طرح محفوظ کرنے کی کوشش کرتے کہ کوئی حرف ضائع نہ ہونے پائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اس کو محفوظ کرنے اور اس کو سنانے کی ذمہ داری ہم نے اپنے اوپر لے رکھی ہے۔ قرآن کے جمع و ترتیب اور اس کی حفاظت کا وعدہ: لفظ ’جمع‘ یہاں ایک جامع لفظ ہے۔ اس سے مراد اس کو نبی ﷺ کے سینہ میں محفوظ کرنا بھی ہے اور ان منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرونا بھی۔ چنانچہ نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر رہنمائی حاصل ہوتی رہی کہ مختلف مواقع پر نازل ہونے والی آیات کو الگ الگ سورتوں میں، کس ترتیب سے آپؐ جمع کرائیں۔ چنانچہ اس رہنمائی کی روشنی میں آپؐ نے الگ الگ سورتوں میں، ان کے مواقع کی تعیین کے ساتھ، جمع کرنے کی ہدایت فرمائی اور جمع کرنے والوں نے آپ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ اس کے علاوہ مزید اہتمام اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہر رمضان میں نبی ﷺ حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ اتنے قرآن کا مذاکرہ فرماتے جتنا نازل ہو چکا ہوتا تاکہ کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حیات مبارک کے آخری رمضان میں آپ نے یہ مذاکرہ دو مرتبہ فرمایا، اسی کی طرف ’قُرْاٰنَہٗ ‘کے لفظ سے اشارہ فرمایا گیا ہے۔