تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 19
ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ﴿19﴾
- ثُمَّ اِنَّپھر بیشک
- عَلَيْنَاہم پر (ہمارے ذمے)
- بَيَانَهٗاس کا بیان
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر ہمارے ہی ذمہ ہے اس کی وضاحت کرنا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘۔ اسی سلسلہ میں مزید اطمینان یہ بھی دلا دیا کہ اگر قرآن کے کسی مقام میں کسی وضاحت کی ضرورت ہو گی تو اس کے باب میں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی وضاحت کی ذمہ داری بھی ہمارے اوپر ہے۔ جب وقت آئے گا تو یہ کام بھی ہم کر دیں گے۔ یہ اشارہ ان آیات کی طرف ہے جو کسی سابق حکم کی توضیح و تبیین یا اس کے نسخ یا تکمیل کے طور پر نازل ہوئیں۔ ان توضیحی آیات کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں اور یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ان کے بعد بالعموم ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ‘ کے الفاظ سے قرآن نے یہ رہنمائی بھی دے دی ہے کہ یہ اسی وعدے کی تکمیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ’اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘ کے الفاظ میں فرمایا ہے۔
استاذ امامؒ کے بعض افادات: ان آیات کے تحت استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ لکھا ہے اس کے بعض حصے بھی ہم نقل کیے دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
’’مفسرین کا خیال ہے کہ ان آیات میں جس عجلت کا ذکر ہے اس کا سبب آنحضرت ﷺ کا یہ اندیشہ تھا کہ مبادا قرآن کی کوئی بات ضائع ہو جائے۔ ہم کواس رائے سے اختلاف نہیں ہے، لیکن اس میں تھوڑی سی تفصیل ہے جو سمجھ لینا ضروری ہے۔‘‘
’’آنحضرت ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ محسوس فرماتے کہ یہ ایک عظیم ذمہ داری اور بہت بڑی امانت ہے جو آپ کے سپرد کی جا رہی ہے، اس میں کوئی ادنیٰ کوتاہی بھی ہوئی یا اس کا ایک حرف بھی ضائع ہوا توآپ کو اس کا جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ساتھ ہی آپ کو یہ تمنا بھی تھی کہ اس میں اضافہ ہو، شاید آپ کی قوم اس کے کسی حصہ کی برکت سے راہ یاب ہو جائے۔ معاملہ کے یہ دونوں ہی پہلو نہایت واضح تھے چنانچہ اس سورہ میں آپ کو جو تسلی دی گئی اس میں ان دونوں پہلوؤں کی رعایت ہے۔‘‘
’’قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اجمالاً اور تفصیلاً دونوں طرح فرمایا ہے۔ مثلاً
وَاِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ ہ لَّا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یََدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ حٰم السجدہ (۴۱: ۴۱-۴۲)
’’اور یہ کتاب عزیز ہے جس میں باطل نہ اس کے آگے سے راہ پا سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔‘‘
دوسرے مقام میں ارشاد ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰٰفِظُوْنَ (الحجر ۱۵: ۹)
’’ہم ہی نے اس یاددہانی کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
’’ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں کسی کمی بیشی یا تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ یہ باتیں اس وعدۂ حفاظت کے منافی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں فرمایا ہے۔ چنانچہ اس امر پر پوری امت متفق ہے کہ قرآن بالکل محفوظ ہے۔ امامیہ کے متعلق جو مشہور ہے کہ وہ کہتے کہ قرآن کا کچھ حصہ غائب کر دیا گیا تو یہ بات ان کے اکابر علماء کی تصریحات کے بالکل خلاف ہے۔ سید مرتضیٰ، شیخ الطائفہ محمد بن حسن طوسی، ابو علی طبری صاحب مجمع البیان، محمد بن علی بن بابویہ قمی، سب نے اس بے ہودہ خیال کی، پوری شدت کے ساتھ، تردید کی ہے۔ محمد بن علی بن بابویہ قمی کہتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جو قرآن اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ پر اتارا بعینہٖ وہی قرآن ہے جو مابین الدفتین امت کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ قرآن ایک حرف بھی اس سے زیادہ نہیں ہے۔ جو شخص ہم سے یہ منسوب کرتا ہے کہ ہم قرآن مجید کے اس سے زیادہ ہونے کے قائل ہیں، وہ جھوٹا ہے۔ اس باب میں ان کے ہاں جو روایات ہیں، ان کے بارے میں سید مرتضیٰ کہتے ہیں کہ امامیہ اور حشویہ میں سے جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے ان کے اختلاف کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ ان کے اختلاف کا تمام تر مدار چند ضعیف روایات پر ہے جن کو یہ صحیح سمجھتے ہیں حالانکہ ان روایات کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بنیاد پر ایک ایسی بات کا انکار کر دیا جائے جس کی صحت قطعیت سے ثابت ہے۔‘‘
’’آیت زیربحث سے مولانا علیہ الرحمۃ نے جو استنباط کیے ہیں وہ یہ ہیں:
o قرآن حضورؐ کی زندگی ہی میں جمع کر کے، ایک خاص ترتیب پر آپ کو سنا دیا گیا۔ اگر یہ وعدہ آپ کی وفات کے بعد پورا ہونے والا ہوتا توآپ کو اس قراء ت کی پیروی کا حکم نہ دیا جاتا، جیسا کہ دیا گیا ہے: ’فَاِذَا قَرَاْنٰہٗ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ‘ (پس جب ہم اس کو سنا دیں تو اس کی پیروی کرو)۔
o آپ کو حکم تھا کہ جمع قرآن کے بعد جس طرح آپ کو قرآن سنایا جائے اسی طرح آپ اس کو پڑھیں............ اس حکم کا لازمی تقاضا ہے کہ حضور ﷺ نے امت کو اس ترتیب کے مطابق قرآن سنایا ہو جس پر اس کی آخری قراء ت ہوئی۔ اور یہ ترتیب وہی ترتیب ہے جو لوح محفوظ میں ہے۔ آخری قراء ت کا اصل کے ٹھیک ٹھیک مطابق ہونا ضروری ہے۔
o یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس جمع و ترتیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ باتیں بھی بیان فرما دیں جو تعمیم و تخصیص یا تخفیف و تکمیل کی نوعیت کی تھیں۔‘‘
آگے مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’یہ ساری باتیں قرآن مجید سے ثابت ہیں اور ان کی تصدیق روایات سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ قرآن کی پوری پوری سورتیں لوگوں کو سناتے جو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ وہ اس خاص ترتیب پر آپ کو سنائی گئی ہوں۔ صحابہؓ اسی ترتیب پر قرآن سنتے، اس کو محفوظ کرتے اور اس کی پابندی کرتے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ آپ آیتوں کو مخصوص سورتوں میں، معین مقامات پر لکھواتے، اور صحابہؓ اس حکم کی تعمیل کرتے۔ پھر جب کوئی توضیحی آیت اترتی تو آپ اس کو بھی قرآن مجید میں اس کے معین مقام میں لکھواتے اور ان کے لکھوانے میں دو اصول ملحوظ رکھے جاتے: یا تو وہ ان آیات کے ساتھ ملا دی جاتیں جن کی وہ تشریح کرتیں یا سورہ کے آخر میں رکھ دی جاتیں اگر ان کا تعلق سورہ کے مجموعی مضمون سے ہوتا۔‘‘
’’ان توضیحی آیات کی ایک اور نمایاں علامت بھی قرآن کے تدبر سے سامنے آتی ہے۔ وہ یہ کہ خود ان آیات کے اندر ایسے الفاظ موجود ہیں جن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ توضیح و تشریح کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ مثلاً ان کے ساتھ بالعموم اس طرح کے الفاظ ہیں: ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ‘ (اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کھول رہا ہے)۔‘‘
’’اسی طرح یہ بات بھی صحیح اور متفق علیہ روایات سے ثابت ہے کہ آخر میں حضرت جبریلؑ نے پورا قرآن، اس کی اصلی ترتیب کے مطابق آپ کو سنایا۔ اس سے نظام قرآن کے باب میں بہت سے شبہات خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔‘‘ (ماخوذ از تفسیر سورۂ قیامہ مؤلفہ امام فراہیؒ)