Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 25

  1. تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ﴿25﴾

    1. تَظُنُّخیال کرتے ہونگے
    2. اَنْکہ
    3. يُّفْعَلَکیا جائے گا
    4. بِهَاان سے
    5. فَاقِرَةٌکمر توڑنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
گمان کررہے ہوں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے والی مصیبت ٹوٹنے والی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کلام کا سیاق وسباق بھی یہاں اسی معنی کے حق میں ہے۔ دوزخ میں جانے والوں کی ذہنی حالت و کیفیت ’تَظُنُّ اَنْ یُفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔ یعنی وہ حالات دیکھ کر یہ گمان کر لیں گے کہ اب ایک کمر توڑ دینے والی مصیبت ان پر ٹوٹنے والی ہے۔ اور اس گمان کے سبب سے ان کے چہروں پر بدحواسی طاری ہو گی۔ ان کے اس گمان کے مقابل میں اہل ایمان کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے رب کی سب سے بڑی رحمت کے ظہور کے متوقع ہوں گے اور اس توقع کے سبب سے ان کے چہرے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ’اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ‘ کی تالیف زمخشریؒ نے یوں بیان کی ہے: ’ای یفعل بھا فعل ہو فی شدتھا فاقرہ‘ (یعنی اس کو ایسی سزا ملنے والی ہے جس کی شدت کمر توڑ دینے والی ہے)۔ اگرچہ اس کے سوا بھی اس کی تالیف کی بعض صورتیں ممکن ہیں لیکن میں اس کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس کی بعض مثالیں آگے کی سورتوں میں آئیں گی۔ ’فَاقِرَۃٌ‘ ایسی مصیبت کو کہتے ہیں جو ریڑھ کی ہڈیوں کو توڑ دینے والی ہو۔